پاکستان میں بچوں کے استحصال کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جہاں رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران 1,914 کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں۔ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'ساحل' کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یکم جنوری 2026 سے 30 جون 2026 کے درمیان ملک بھر سے یہ کیسز دستاویزی شکل میں سامنے آئے۔
پاکستان میں بچوں کا استحصال: ایک سنگین صورتحال
رپورٹ کے مطابق، ان 1,914 کیسز میں 49 ایسے واقعات شامل ہیں جن میں شیر خوار بچے استحصال کا نشانہ بنے۔ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب اس فہرست میں سرفہرست ہے، جہاں ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے کل کیسز کا 80 فیصد حصہ پنجاب سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف حکومتی اداروں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد صرف ان کیسز پر مبنی ہے جو رپورٹ ہوئے، جبکہ سماجی دباؤ اور خوف کی وجہ سے بہت سے واقعات کبھی تھانے یا متعلقہ دفاتر تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔
رپورٹ کے اہم نکات
- کل رپورٹ شدہ کیسز: 1,914
- رپورٹ کا دورانیہ: یکم جنوری 2026 سے 30 جون 2026 تک
- شیر خوار بچوں کے کیسز: 49
- سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ: پنجاب (کل کیسز کا 80 فیصد)
- ذریعہ: ساحل (چائلڈ پروٹیکشن این جی او)
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
اگر آپ کو اپنے اردگرد کسی بچے کے ساتھ زیادتی یا استحصال کا شبہ ہو تو خاموش نہ رہیں۔ فوری طور پر قریبی تھانے یا چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو مطلع کریں۔ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو 'محفوظ' اور 'غیر محفوظ' لمس کے بارے میں آگاہ کریں اور ان سے دوستانہ ماحول میں بات چیت کریں۔ ساحل جیسی تنظیموں کی ویب سائٹ پر دی گئی ہدایات کو پڑھنا اور ان کے ہیلپ لائن نمبرز کو اپنے پاس محفوظ رکھنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
مستقبل میں کیا توقع کی جائے؟
اب نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا صوبائی حکومتیں بچوں کے تحفظ کے قوانین کو مزید سخت کریں گی یا نہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان 1,914 واقعات میں ملوث ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ آنے والے مہینوں میں حکومتی اقدامات اور عدالتی کارروائی کا جائزہ لینا ضروری ہوگا تاکہ اس بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پایا جا سکے۔
