اسلام آباد کی ایک عدالت نے بدھ کے روز گلبرگ گرینز میں ہونے والے ایک بڑے گلبرگ گرینز سائبر کرائم کیس میں ملوث 114 غیر ملکی شہریوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ یہ کارروائی وفاقی دارالحکومت میں غیر ملکیوں کی اتنی بڑی تعداد میں گرفتاری کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔
سائبر کرائم تفتیش کاروں کے مطابق، ملزمان کو اسلام آباد کے پوش علاقے گلبرگ گرینز سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر فحش مواد تیار کرنے اور آن لائن فراڈ کے ذریعے لوگوں کو لوٹنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
گلبرگ گرینز سائبر کرائم کیس کی تفصیلات
تفتیشی حکام نے عدالت سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاکہ مزید تفتیش کی جا سکے اور ڈیجیٹل شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔ عدالت نے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزمان کو جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ گروہ ایک منظم نیٹ ورک کے تحت کام کر رہا تھا اور ان کے قبضے سے لیپ ٹاپ، سرورز اور موبائل فونز سمیت بڑی تعداد میں الیکٹرانک آلات برآمد ہوئے ہیں۔
رہائشیوں کے لیے انتباہ
گلبرگ گرینز جیسے محفوظ رہائشی علاقے میں اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کی موجودگی اور ان کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیوں نے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے گردونواح میں مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں، خاص طور پر:
- رہائشی گھروں میں بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کے قیام پر نظر رکھیں۔
- گھروں میں غیر معمولی ہائی سپیڈ انٹرنیٹ یا سرور آلات کی تنصیب کی اطلاع دیں۔
- رات کے اوقات میں غیر معمولی نقل و حرکت کی صورت میں متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔
اب کیا ہوگا؟
تفتیش کا عمل جاری ہے اور توقع ہے کہ ایف آئی اے جلد ہی ان غیر ملکیوں کی شہریت اور ان کے نیٹ ورک کے دیگر روابط کے بارے میں مزید تفصیلات جاری کرے گی۔ آنے والے دنوں میں یہ کیس مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے کیونکہ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ کوئی بین الاقوامی کرائم سنڈیکیٹ تھا یا نہیں۔ وزارت داخلہ کی جانب سے اس معاملے پر مزید سخت پالیسیوں کا اعلان متوقع ہے۔
