اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) انتظامیہ نے ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 16 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ شہر میں ڈینگی کے کیسز میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر انتظامیہ نے انسدادِ ڈینگی مہم کے تحت روزانہ کی بنیاد پر کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔

ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن کیوں؟

اسلام آباد میں ڈینگی کے خطرات کو دیکھتے ہوئے مقامی انتظامیہ نے 'زیرو ٹالرنس' پالیسی اپنا لی ہے۔ گرفتاریاں ان مقامات سے عمل میں آئیں جہاں کھڑا پانی مچھروں کی افزائش کا سبب بن رہا تھا۔ انتظامیہ کی ٹیمیں خاص طور پر زیر تعمیر عمارتوں، کباڑ خانوں اور رہائشی علاقوں کو ہدف بنا رہی ہیں جہاں پانی جمع ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں۔

شہریوں کے لیے یہ ایک انتباہ ہے کہ انتظامیہ اب صرف نوٹس جاری کرنے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی اور گرفتاریوں کا عمل جاری رہے گا۔ اگر آپ پراپرٹی کے مالک ہیں یا تعمیراتی کام کی نگرانی کر رہے ہیں، تو ڈینگی سے بچاؤ کے پروٹوکولز پر عمل کرنا اب آپ کی قانونی ذمہ داری ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

قانونی کارروائی سے بچنے اور اپنے گھر والوں کو محفوظ رکھنے کے لیے درج ذیل ہدایات پر عمل کریں:

  • گملوں، کولرز اور برتنوں میں جمع پانی کو فوری طور پر ضائع کریں۔
  • پانی کے ذخائر اور ٹینکوں کو مضبوطی سے ڈھانپ کر رکھیں یا جالی کا استعمال کریں۔
  • چھتوں اور گھر کے عقب میں موجود کباڑ، خاص طور پر پرانے ٹائروں کو ہٹا دیں جہاں بارش کا پانی جمع ہو سکے۔
  • محکمہ صحت کی ٹیموں کو اپنے گھروں میں اسپرے کے لیے داخلے کی اجازت دیں۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن ڈینگی کے ہائی رسک سیزن کے دوران مسلسل جاری رہے گا۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

آنے والے دنوں میں انتظامیہ کمرشل پلازوں اور بڑی تعمیراتی سائٹس پر نگرانی مزید سخت کرے گی، جو اکثر لاروا پیدا ہونے کے مراکز بن جاتے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر ان کے محلے میں کہیں پانی کھڑا ہے جو خود صاف کرنا ممکن نہیں، تو وہ فوری طور پر ڈپٹی کمشنر آفس یا آئی سی ٹی انتظامیہ کے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر اطلاع دیں۔ احتیاط ہی اس بیماری سے بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔