16 سالہ اقبال شیخ گزشتہ 5 سال سے ایک تالاب میں رہنے پر مجبور ہے کیونکہ اسے ایک ایسے پراسرار مرض کا سامنا ہے جس میں اس کے پورے جسم میں شدید جلن ہوتی ہے۔ اس نوجوان کے لیے تالاب سے باہر نکلنا موت کے مترادف ہے، کیونکہ باہر نکلتے ہی اسے ناقابل برداشت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اقبال شیخ کی زندگی اور مشکلات

اقبال شیخ کا تالاب میں رہنا کسی شوق کا نتیجہ نہیں بلکہ مجبوری ہے۔ دن رات پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کے ہاتھ، پیر اور جسم کی جلد گل کر سفید پڑ چکی ہے۔ ہر وقت پانی میں رہنے کے باعث اسے اب شدید کھانسی اور نزلہ زکام کی شکایت بھی رہنے لگی ہے، جس سے اس کی صحت روز بروز گر رہی ہے۔

  • مدت: گزشتہ 5 سال سے مسلسل پانی میں قیام۔
  • مرض: جلد میں شدید جلن کا احساس۔
  • موجودہ حالت: جلد کا گل جانا اور سانس کے مسائل۔

تالاب ہی واحد ٹھکانہ کیوں؟

نوجوان کا کہنا ہے کہ پانی اسے سکون دیتا ہے اور جلن سے بچاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ کسی شدید جلدی بیماری یا جینیاتی نقص کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم تالاب کے غیر صاف پانی میں مسلسل رہنے سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ چکا ہے۔ اسے طبی امداد کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس کی جلد کو مزید گلنے سے بچایا جا سکے۔

اب کیا کرنے کی ضرورت ہے؟

صوبائی محکمہ صحت اور ماہر امراض جلد (Dermatologists) کو اس کیس کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ اقبال شیخ کو ایک صاف ستھرے اور طبی لحاظ سے محفوظ ماحول کی ضرورت ہے جہاں اس کے مرض کی درست تشخیص ہو سکے۔ عوام اور فلاحی اداروں کو چاہیے کہ اس نوجوان کی مدد کے لیے آگے آئیں تاکہ اسے اس تکلیف دہ زندگی سے نجات مل سکے۔