ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے پاکستان افغانستان سرحد پر پائی جانے والی سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپر ڈیر کے سرحدی علاقوں میں واقع 18 بچیوں کے اسکولوں کو ایک ہفتے کیلئے عارضی طور پر بند کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ یہ احتیاطی قدم طلباء اور اساتذہ کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے اٹھایا گیا ہے کیونکہ مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے خطے کے حالات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
دورافتادہ سرحدی علاقوں میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے والدین اور مقامی مکینوں میں تحفظات پائے جاتے ہیں، جہاں سرحدی کشیدگی اور سیکیورٹی کے مسائل اکثر روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔ ضلعی حکام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا آنے والے دنوں میں تعلیمی سرگرمیوں کو مزید طویل عرصے کیلئے معطل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔
اپر ڈیر کے سرحدی علاقوں کی سیکیورٹی صورتحال
خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں، خاص طور پر افغانستان کے ساتھ متصل سرحد کے قریب، سیکیورٹی کی صورتحال حساس رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ انٹیلی جنس اطلاعات کے بعد ان 18 بچیوں کے اسکولوں کو ایک ہفتے کیلئے بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
صوبے بھر کی ضلعی انتظامیہ کے پاس سیکیورٹی الرٹس کے دوران تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند کرنے کے معیاری طریقہ کار موجود ہیں۔ تاہم اسکولوں کی بندش سے تعلیمی نقصان کا خدشہ رہتا ہے، بالخصوص دیہی علاقوں کی طالبات کیلئے جنہیں پہلے ہی تعلیم کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
والدین اور طلباء کیلئے ہدایات
اگر آپ اپر ڈیر میں رہائش پذیر ہیں یا آپ کی بچیاں سرحد کے قریب واقع اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں، تو اسکول انتظامیہ سے باضابطہ نوٹیفیکیشن کی تصدیق کرنے کے بعد ہی بچوں کو اسکول بھیجیں۔ ضلعی تعلیمی دفاتر جلد ہی اسکولوں کی بندش کے حتمی اوقات اور دنوں کا باقاعدہ اعلان جاری کریں گے۔
حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
