پاکستان میں اس وقت 3 لاکھ سے زائد افراد کارنیا کی بیماریوں کے باعث بینائی سے محروم ہیں، جنہیں اپنی بصارت کی بحالی کے لیے کارنیا کی پیوند کاری (corneal transplant in pakistan) کی فوری ضرورت ہے۔ تاہم، آنکھوں کے عطیات کی شدید قلت نے اس صورتحال کو ایک بحران کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث ہزاروں مریض برسوں سے انتظار کی فہرست میں شامل ہیں۔

بینائی کے مسائل اور علاج کی محدود سہولیات

اگرچہ پاکستان میں کارنیا کی پیوند کاری کی ضرورت بہت زیادہ ہے، لیکن اس کے لیے درکار طبی سہولیات انتہائی محدود ہیں۔ مثال کے طور پر، راولپنڈی میں قائم الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال جیسے بڑے ادارے بھی سالانہ صرف 800 کے قریب ہی کارنیا ٹرانسپلانٹ کی سرجری کر پاتے ہیں۔ یہ تعداد ملک بھر میں موجود مریضوں کی ضرورت کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے، جس سے اس شعبے میں موجود وسیع خلا کا اندازہ ہوتا ہے۔

  • انتظار کرنے والے مریضوں کی تعداد: 3 لاکھ سے زائد
  • بڑے ہسپتالوں کی سالانہ صلاحیت: تقریباً 800 سرجریز
  • بنیادی مسئلہ: آنکھیں عطیہ کرنے والوں کی انتہائی کمی

عطیات کی کمی کی وجوہات

پاکستان میں آنکھوں کے عطیے کے حوالے سے عوامی آگاہی کا فقدان اور سماجی و مذہبی غلط فہمیاں اس بحران کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ بہت سے لوگ وفات کے بعد آنکھیں عطیہ کرنے کے تصور سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹشوز کو محفوظ کرنے اور بروقت مریض تک پہنچانے کے لیے درکار تکنیکی انفراسٹرکچر بھی صرف بڑے شہروں تک محدود ہے، جس کی وجہ سے دیہی علاقوں کے مریض علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔

عطیہ دینے کا طریقہ کار

اگر آپ یا آپ کے اہل خانہ آنکھوں کے عطیے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو آپ کو مستند آئی بینکس میں رجسٹریشن کروانی چاہیے۔ الشفاء ٹرسٹ اور دیگر نامور ہسپتالوں کے پاس اپنے ڈونر رجسٹرز موجود ہوتے ہیں۔ مرنے کے بعد اپنی آنکھیں عطیہ کر کے آپ دو افراد کی دنیا روشن کر سکتے ہیں۔

جن مریضوں کو کارنیا کی پیوند کاری کی ضرورت ہے، انہیں چاہیے کہ وہ فوری طور پر کسی مستند ماہر امراض چشم سے رجوع کریں اور خود کو ویٹنگ لسٹ میں شامل کروائیں۔ اگرچہ انتظار کا وقت طویل ہے، لیکن سرکاری فہرست میں اندراج ہی پیوند کاری کے عمل تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

ماہرین صحت کا مطالبہ ہے کہ حکومت آنکھوں کے عطیات کے لیے ایک قومی آگاہی مہم چلائے اور سرکاری ہسپتالوں میں کارنیا کے حصول کے عمل کو قانونی طور پر آسان بنائے۔ اگر عطیہ دہندگان کی تعداد میں اضافہ نہ ہوا تو یہ تعداد مزید بڑھتی جائے گی، جس سے ہزاروں افراد اپنی زندگی بھر کے لیے بینائی سے محروم رہ سکتے ہیں۔