کراچی میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران سرکاری ٹیم پر حملہ اور ہنگامہ آرائی کرنے کے الزام میں 33 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب حکام شہر کے مختلف علاقوں سے غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے پہنچے، تاہم وہاں موجود افراد نے سرکاری کام میں شدید مداخلت کی اور پولیس پر حملہ کر دیا۔
کراچی اینٹی انکروچمنٹ آپریشن میں پیش آنے والا واقعہ
کراچی اینٹی انکروچمنٹ آپریشن کے دوران مشتعل مظاہرین نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں پر پتھراؤ کیا اور مزاحمت کی۔ پولیس کی جانب سے درج کیے گئے دو مقدمات میں سرکاری کام میں مداخلت، پولیس پر حملہ اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اس کشیدہ صورتحال کے دوران علاقے کے ایس ایچ او کا کندھا فریکچر ہو گیا، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول کیا اور مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
بوٹ بیسن میں مبینہ ڈکیت مقابلے کے بعد گرفتار
ایک اور واقعے میں بوٹ بیسن پولیس نے ماں بیٹے کو لوٹنے والے ایک مبینہ ڈکیت کو مقابلے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کا ماضی کا کرمنل ریکارڈ بھی سامنے آیا ہے اور وہ متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا۔ ملزم سے اسلحہ اور لوٹا گیا سامان برآمد کر لیا گیا ہے اور اس سے مزید تفتیش جاری ہے۔
شہریوں کے لیے ہدایات
شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن والے علاقوں میں غیر ضروری جانے سے گریز کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ سرکاری افسران پر حملہ کرنے والوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ آپ اپنے علاقے میں کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن پر دے سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں شہر بھر میں تجاوزات کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیے جانے کا امکان ہے۔
