بدھ کے روز بلوچستان کے مختلف حصوں میں 4.8 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس نے ایک بار پھر خطے کی ارضیاتی حساسیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ زلزلے کے جھٹکے ژوب اور چمن کے علاقوں میں محسوس کیے گئے، جس کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے عمارتوں سے باہر نکل آئے۔

بلوچستان زلزلہ: صورتحال کا جائزہ

نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر کے مطابق، زلزلے کا مرکز ژوب سے 122 کلومیٹر شمال مشرق کی جانب تھا۔ اگرچہ جھٹکے کافی محسوس کیے گئے، تاہم مقامی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ فی الحال کسی قسم کے جانی نقصان یا بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی تباہی کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ژوب اور چمن میں ریسکیو ٹیمیں اور مقامی انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

ماضی کے واقعات سے سبق

بلوچستان کا شمار پاکستان کے ان خطوں میں ہوتا ہے جہاں زلزلے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ 2021 میں آنے والا 5.9 شدت کا زلزلہ ابھی تک لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے، جس میں کم از کم 20 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اسی وجہ سے 4.8 شدت کا زلزلہ بھی مقامی آبادی کے لیے تشویش کا باعث بنتا ہے۔

زلزلے کے دوران احتیاطی تدابیر

اگر آپ زلزلہ زدہ علاقے میں رہتے ہیں تو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
- جھٹکے محسوس ہوتے ہی کسی مضبوط میز یا فرنیچر کے نیچے پناہ لیں۔
- کھڑکیوں، شیشوں اور ایسی دیواروں سے دور رہیں جو گر سکتی ہیں۔
- اگر آپ باہر ہیں تو کھلی جگہ پر چلے جائیں اور بجلی کے کھمبوں یا عمارتوں سے دور رہیں۔
- زلزلے کے دوران لفٹ کا استعمال ہرگز نہ کریں۔

اب کیا ہوگا؟

فی الحال صورتحال کنٹرول میں ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد آفٹر شاکس (جھٹکے) آنے کا امکان رہتا ہے۔ عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں اور کسی بھی افواہ پر کان نہ دھریں۔ مقامی انتظامیہ دور دراز علاقوں میں نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔