راولپنڈی ضلع کی چار تحصیلوں میں چار روزہ خصوصی انسداد پولیو مہم جمعرات کو باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہو گئی، جس کے دوران پہلے تین ہی دنوں میں 594,000 سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔ ضلعی صحت کے حکام کے مطابق اس خصوصی مہم کا مقصد حساس علاقوں میں بچوں کی قوت مدافعت کو مزید مضبوط بنانا اور رہ جانے والے بچوں تک رسائی حاصل کرنا تھا۔

مہم کا دائرہ کار اور طریقہ کار

یہ خصوصی انسداد پولیو مہم راولپنڈی کی چار اہم تحصیلوں میں چلائی گئی جہاں فرنٹ لائن ورکرز نے گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے۔ اس کے علاوہ بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور اہم داخلی و خارجی راستوں پر خصوصی ٹیمیں تعینات کی گئیں تاکہ سفر کرنے والے خاندانوں کے بچے بھی اس مہم سے محروم نہ رہیں۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت پولیس اہلکاروں نے پولیو ٹیموں کے ساتھ ڈیوٹیاں سر انجام دیں۔

فیلڈ ورکرز کو درپیش چیلنجز

شہری علاقوں اور مضافاتی بیلٹ میں پولیو مہم کے دوران ٹیموں کو اکثر والدین کی طرف سے ہچکچاہٹ اور بند دروازوں جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، اس بار کمیونٹی کے معززین اور مقامی عمائدین کی مدد سے والدین کو قائل کرنے میں خاصی مدد ملی۔ یہی وجہ ہے کہ ابتدائی تین دنوں میں ہی ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد بچوں کو کامیابی سے حفاظتی قطرے پلائے جا چکے ہیں۔

والدین کے لیے اگلا قدم

اگر آپ کا بچہ اس خصوصی مہم کے دوران کسی وجہ سے پولیو کے قطرے پینے سے رہ گیا ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ فوراً اپنے قریبی بنیادی صحت مرکز (BHU) یا سرکاری ڈسپنسری سے رجوع کریں اور اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں۔ اپنے بچوں کے ویکسینیشن کارڈ کو اپ ڈیٹ رکھیں اور جب بھی صحت کے کارکنان آپ کے دروازے پر آئیں، ان کے ساتھ تعاون کریں۔

صحت کے شعبے میں آئندہ کی صورتحال

محکمہ صحت پنجاب راولپنڈی مہم کے دوران سامنے آنے والی کمزوریوں کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں صوبہ بھر میں شروع ہونے والی آئندہ قومی مہمات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ تمام والدین سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ انسداد پولیو مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔