اپنے سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن کو فائل کرنا پہلے ہی بہت سے لوگوں کے لیے ایک مشکل کام ہے، لیکن fbr tax return 2026 سسٹم کے اجرا نے اس عمل کو ایک تکنیکی ڈراؤنے خواب میں بدل دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، نئے پورٹل میں 500 سے زائد خرابیاں (بگز) پائی گئی ہیں، جو لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ٹیکس فائلنگ کے عمل کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔
عام ٹیکس دہندہ کے لیے یہ بری خبر ہے۔ جب ڈیجیٹل انفراسٹرکچر یعنی آئی رس (Iris) پورٹل صحیح طریقے سے کام نہیں کرتا، تو اس کا مطلب صرف معمولی سی پریشانی نہیں ہے؛ اس کا مطلب آپ کے گوشواروں میں غلطیاں، غلط ٹیکس کیلکولیشن، اور ایسی غلطیوں کی وجہ سے جرمانے کا خطرہ ہے جو آپ کی اپنی نہیں ہیں۔ اگر آپ جلد ٹیکس فائل کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو آپ ایک طرح سے ڈیجیٹل بارودی سرنگوں میں قدم رکھ رہے ہیں۔
fbr tax return 2026 کیوں ناکام ہو رہا ہے
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) عام طور پر اپنے سسٹمز کو اپ گریڈ کرتا ہے تاکہ وہ زیادہ ٹریفک کو سنبھال سکے اور ڈیٹا انٹری کو آسان بنا سکے۔ تاہم، ان 500 شناخت شدہ خرابیوں کا دائرہ کار معمولی ڈسپلے غلطیوں سے لے کر ٹیکس کیلکولیشن کے منطقی حساب تک پھیلا ہوا ہے۔
- ایف بی آر ڈیٹا بیس اور صارف کے ان پٹ کے درمیان ڈیٹا سنکرونائزیشن کی ناکامی۔
- ٹیکس کریڈٹس اور چھوٹ کے حوالے سے حساب کتاب کی غلطیاں۔
- معاون دستاویزات یا اینکسچر اپ لوڈ کرنے میں ناکامی۔
- مصروف اوقات کے دوران سرور کا بار بار ڈاؤن ہونا۔
یہ مسائل صرف ظاہری نہیں ہیں۔ اگر سسٹم آپ کی ٹیکس کی ذمہ داری کا غلط حساب لگاتا ہے، تو آپ کو ضرورت سے زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے یا اس کے برعکس، کم ادائیگی ہو سکتی ہے، جو بعد میں ایف بی آر کی جانب سے آڈٹ نوٹس کا باعث بن سکتی ہے۔ ایک تنخواہ دار فرد یا چھوٹے کاروباری مالک کے لیے، یہ تضادات ایک بڑا سر درد بن سکتے ہیں۔
آپ کی جیب پر اس کا کیا اثر ہوگا
تکنیکی مایوسی کے علاوہ، یہ مالی خطرے کا معاملہ بھی ہے۔ ہر سال، ہزاروں ٹیکس دہندگان کو ایف بی آر کے سسٹم ڈیٹا اور ان کی اپنی ظاہر کردہ آمدنی کے درمیان خودکار تضادات کی وجہ سے نوٹس موصول ہوتے ہیں۔ ایک خراب پلیٹ فارم کے ساتھ، ان غلطیوں کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔
اگر آپ کاروباری ہیں، تو آپ کو اضافی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ مالی ڈیٹا کو پروسیس کرنے کے لیے ایک غیر مستحکم سسٹم پر انحصار کرنا غلط فائلنگ کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر آپ ابھی فائلنگ نہیں کر رہے ہیں، تب بھی سسٹم کی غیر یقینی صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنی تمام رسیدیں، بینک اسٹیٹمنٹس، اور ٹیکس کٹوتی کے سرٹیفکیٹس کو ایک پیشہ ور اکاؤنٹنٹ سے تصدیق کروا کر محفوظ رکھنا چاہیے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
اپنا ریٹرن فوری طور پر فائل کرنے کی جلدی نہ کریں۔ اگر آپ کے پاس کوئی فوری قانونی ڈیڈ لائن نہیں ہے، تو ایف بی آر کی جانب سے سسٹم میں اصلاحات کا انتظار کریں۔
- سرکاری ایف بی آر پورٹل (iris.fbr.gov.pk) کو باقاعدگی سے چیک کریں۔
- اپنی تمام مالی رسیدوں اور بینک سٹیٹمنٹس کا ایک مقامی بیک اپ رکھیں۔
- کسی بھی ایسے ڈیٹا کو جمع کرانے سے پہلے اپنے ٹیکس مشیر سے مشورہ کریں جس کا حساب کتاب سسٹم غلط دکھا رہا ہو۔
- ہر اس غلطی کا سکرین شاٹ لیں جس کا آپ کو سامنا ہو؛ یہ ثبوت کے طور پر کام آ سکتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا
ایف بی آر پر دباؤ ہے کہ وہ ان خرابیوں کو جلد دور کرے تاکہ ٹیکس جمع کرنے کا عمل متاثر نہ ہو۔ فائلنگ کی تاریخوں میں توسیع کے حوالے سے سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں۔ اگر یہ خرابیاں برقرار رہیں، تو بہت امکان ہے کہ بورڈ فائلنگ کے لیے رعایتی مدت دینے پر مجبور ہو جائے گا۔ تب تک، پورٹل پر ہر اندراج کو احتیاط سے دیکھیں اور سسٹم کے حساب کتاب کو دوبارہ چیک کریں۔
