لاہور میں بارہ ربیع الاول کے جلوسوں اور محافل کے دوران امن و امان کی فضا برقرار رکھنے اور سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے 7 ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شہر بھر میں جلوسوں کے روٹس اور حساس مقامات پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

اس سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دینے کے لیے جمعہ کے روز ایک اہم اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت کمشنر لاہور نعمان یوسف، ڈی آئی پی آپریشنز فیصل کامران اور چیئرمین پنجاب علما بورڈ ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد نوری نے مشترکہ طور پر کی۔ اجلاس میں جلوسوں کے راستوں، ٹریفک کے انتظامات اور امن کمیٹیوں کے ساتھ تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا。

سیکیورٹی پلان اور نفری کی تعیناتی

لاہور کے مختلف زونز اور جلوسوں کے مرکزی راستوں پر 7 ہزار پولیس اہلکار فرائض سر انجام دیں گے۔ افسران نے تصدیق کی ہے کہ ڈولفن سکواڈ، پولیس رسپانس یونٹ اور ایلیٹ فورس کے دستے اہم شاہراہوں پر گشت کریں گے۔ عید میلاد النبی کے بڑے اجتماعات کے مقامات پر واک تھرو گیٹس، میٹل ڈ détectors اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کڑی نگرانی کی جائے گی۔

  • 7 ہزار پولیس اہلکار لاہور بھر میں سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے
  • مشترکہ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور علما بورڈ کے حکام شریک ہوئے
  • حساس مقامات اور جلوسوں کے روٹس پر خصوصی نظر رکھی جائے گی
  • سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اور کوئیک رسپانس فورسز کو الرٹ رکھا گیا ہے

علما اور امن کمیٹیوں کا تعاون

اجلاس کے دوران ضلعی حکام اور علما نے بین المذاہب ہم آہنگی اور امن و امان کے قیام پر زور دیا۔ ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد نوری نے اس بات پر زور دیا کہ علما کرام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر پرامن ماحول کو یقینی بنائیں گے۔ مقامی عمائدین اور کمیٹی کے ارکان کو بھی جلوسوں کے داخلی راستوں پر سیکیورٹی عملے کی مدد کے لیے شامل کیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے تمام ڈویژنل ایس پیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں سیکیورٹی پروٹوکول کی ذاتی طور پر نگرانی کریں۔ جلوسوں کے آغاز سے قبل ٹریفک کے متبادل راستوں کا اعلان کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے، جبکہ ریسکیو اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹس کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

شہریوں کے لیے ہدایات

اگر آپ بارہ ربیع الاول کے جلوسوں میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں یا لاہور میں سفر کرنا چاہتے ہیں تو ٹریفک کی بندش اور سیکیورٹی چیک پوسٹوں کے لیے تیار رہیں۔ اپنے ساتھ اپنا اصل شناختی کارڈ (CNIC) ضرور رکھیں، واک تھرو گیٹس پر پولیس اہلکاروں سے تعاون کریں، اور گھر سے نکلنے سے پہلے ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ متبادل راستوں کی معلومات ضرور چیک کریں۔

آگے کیا توقع کی جائے

آنے والے دنوں میں لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے راستوں کی بندش اور متبادل روٹس کے حوالے سے تفصیلی ایڈوائزری جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ حساس علاقوں میں جلوسوں کے اوقات کے دوران موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل رکھنے سے متعلق بھی حتمی فیصلے متوقع ہیں۔