بدھ کے روز فیصل آباد کے ایک پولیس اسٹیشن میں 70 سالہ سائل دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہو گیا، جبکہ لواحقین کا الزام ہے کہ تھانے کے عملے نے اس کے ساتھ انتہائی توہین آمیز رویہ اختیار کیا تھا۔ یہ افسوسناک واقعہ غلام محمد آباد پولیس اسٹیشن میں پیش آیا جہاں یہ بزرگ شہری اپنی دس سالہ پوتی کے ساتھ پیش آنے والے ہراسانی کے واقعے کی شکایت درج کروانے اور کارروائی کے لیے گیا تھا۔
فیصل آباد پولیس اسٹیشن کے واقعے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- متاثرہ شخص: 70 سالہ سائل
- مقام: غلام محمد آباد پولیس اسٹیشن، فیصل آباد
- تاریخ: بدھ کا روز
- واقعے کی وجہ: دس سالہ پوتی کی ہراسانی پر پولیس سے فریاد
- موت کی وجہ: پولیس اہلکار کے مبینہ توہین آمیز رویے کے بعد پڑنے والا دل کا دورہ
غلام محمد آباد پولیس اسٹیشن میں پیش آنے والا واقعہ
متاثرہ بزرگ شہری بدھ کے روز اپنی کم سن پوتی کو ہراساں کیے جانے کے خلاف انصاف کے حصول کے لیے پولیس اسٹیشن پہنچا تھا۔ اس کے ساتھ موجود اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے ان کی فریاد سننے کے بجائے انتہائی توہین آمیز اور تحقیر آمیز رویہ اپنایا۔ لواحقین کے مطابق پولیس اہلکار کی جانب سے تضحیک آمیز رویے اور نامناسب الفاظ کے استعمال نے بزرگ شہری کو شدید ذہنی صدمے سے دوچار کیا۔
تھانے کے اندر اس ذہنی اذیت اور دباؤ کے باعث بزرگ سائل کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور وہ وہیں گر کر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہو گئے۔ لواحقین کا الزام ہے کہ پولیس اسٹیشن میں موجود عملے نے فوری طور پر کوئی طبی امدادی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی بزرگ شہری کو وقت پر اسپتال منتقل کیا جا سکا، جس کی وجہ سے وہ جان کی بازی ہار گئے۔
عوامی ردعمل اور ذمہ داروں کے خلاف مطالبات
ریاستی ادارے کے اندر پیش آنے والے اس دلخراش واقعے کے بعد شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ورثا اور علاقہ مکینوں نے پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غفلت اور بدتمیزی کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کرکے اعلیٰ سطح کی جوڈیشل انکوائری کی جائے۔ فیصل آباد کے شہریوں کا کہنا ہے کہ تھانوں کا ماحول عام سائلین اور خصوصاً بزرگوں کے لیے غیر محفوظ بن چکا ہے جہاں فریاد لے جانے والوں کی عزتِ نفس مجروح کی جاتی ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کو بھی پولیس اسٹیشن میں بدتمیزی یا ناانصافی کا سامنا کرنا پڑے تو درج ذیل اقدامات کریں:
- پاکستان سٹیزن پورٹل ایپ یا براہِ راست آئی جی پنجاب کمپلینٹ سیل میں متعلقہ اہلکار کے خلاف تحریری شکایت درج کروائیں۔
- ضلعی و سیشن جج یا جسٹس آف پیس (پہل کی بنیاد پر) کے پاس دفعہ 22-اے کے تحت رجوع کریں۔
- کسی بھی پولیس اسٹیشن میں بدسلوکی کی صورت میں افسران کے نام، بیج نمبر اور وقت نوٹ کر کے اعلیٰ حکام کو تحریری اطلاع دیں۔
آگے کیا متوقع ہے؟
اس المناک واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ سی سی پی او فیصل آباد ملوث اہلکاروں کے خلاف کیا تادیبی کارروائی کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
