بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ کے ایک شپ بریکنگ یارڈ میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے کے نتیجے میں 8 مزدور زہریلی گیس کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مزدور ایک ناکارہ بحری جہاز کو توڑنے کا کام کر رہے تھے۔
چٹاگانگ شپ بریکنگ یارڈ میں حادثے کی تفصیلات
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جہاز کو توڑنے سے پہلے اس کے اندر موجود زہریلی گیسوں کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا تھا۔ جہاز کے اندر موجود مختلف کیمیکلز اور گیسیں کٹنگ ٹارچ کے استعمال کے دوران انتہائی خطرناک ثابت ہوئیں، جس سے کام کرنے والے مزدوروں کا دم گھٹ گیا۔ شپ بریکنگ انڈسٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے حفاظتی اقدامات کا فقدان ہمیشہ ایک بڑا سوالیہ نشان رہا ہے۔
- مقام: چٹاگانگ، بنگلہ دیش
- ہلاکتیں: 8 مزدور
- وجہ: زہریلی گیس کا اخراج
- موجودہ صورتحال: حکام کی جانب سے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں
حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی
کسی بھی جہاز کو توڑنے سے قبل بین الاقوامی اصولوں کے مطابق 'گیس فری' سرٹیفکیٹ کا حصول لازمی ہوتا ہے۔ ماہرین کی جانب سے جہاز کو مکمل طور پر چیک کیا جاتا ہے تاکہ اس میں موجود خطرناک گیسوں کو نکالا جا سکے۔ اس حادثے سے واضح ہوتا ہے کہ یارڈ انتظامیہ نے حفاظتی ضوابط کو نظر انداز کیا، جس کی قیمت 8 مزدوروں کو اپنی جان دے کر چکانا پڑی۔
مزدوروں کے لیے احتیاطی تدابیر
اگر آپ صنعتی شعبے یا ایسی خطرناک ورکشاپس میں کام کرتے ہیں تو درج ذیل نکات کو یقینی بنائیں:
- کام شروع کرنے سے پہلے گیس ڈیٹیکشن کے جدید آلات کا استعمال کریں۔
- کسی بھی بند حصے میں داخل ہونے سے پہلے وہاں کی ہوا کو مکمل طور پر صاف (Ventilation) کریں۔
- انتظامیہ سے حفاظتی سرٹیفکیٹ کا مطالبہ کریں۔
آئندہ کے لیے توقع کی جا رہی ہے کہ حکام اس معاملے پر سخت ایکشن لیں گے اور یارڈ مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ہم اس افسوسناک واقعے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئے گی، قارئین کو مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔
