پاکستان کے معروف سابق ماڈل اور اداکار عبداللہ اعجاز نے انکشاف کیا ہے کہ کمر کی شدید تکلیف ہی وہ بنیادی وجہ تھی جس نے انہیں ماڈلنگ کی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ ایک طویل عرصے تک ریمپ پر راج کرنے والے عبداللہ اعجاز نے بتایا کہ ان کی بیماری اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ عام زندگی گزارنا بھی دوبھر ہو گیا تھا۔
عبداللہ اعجاز کے ماڈلنگ چھوڑنے کی حقیقت
عبداللہ اعجاز نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ انہیں کمر میں شدید درد کا سامنا تھا جس کی وجہ سے وہ ٹھیک طرح سے بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تکلیف اتنی بڑھ گئی تھی کہ کھانا پینا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ ماڈلنگ کے شعبے میں گھنٹوں کھڑے رہنا، بھاری ملبوسات پہننا اور مسلسل سفر کرنا ان کی صحت کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہو رہا تھا، جس کے بعد انہوں نے کیریئر کی ترجیحات بدلنے کا فیصلہ کیا۔
گلیمر کے پیچھے چھپی تکلیف
اگرچہ ماڈلنگ کی دنیا کو باہر سے بہت پرکشش سمجھا جاتا ہے، لیکن عبداللہ اعجاز کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ اس پیشے کے پیچھے کتنی جسمانی تکالیف پوشیدہ ہو سکتی ہیں۔ ایک کامیاب ماڈل کے لیے ریمپ چھوڑنا آسان فیصلہ نہیں ہوتا، تاہم صحت کی خرابی نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں نئے سرے سے سوچیں۔
- کمر کی شدید تکلیف کے باعث روزمرہ کے کام کرنا مشکل ہو گیا تھا۔
- طویل وقت تک بیٹھنے یا کھڑے ہونے سے درد میں شدت آ جاتی تھی۔
- صحت یابی کو ترجیح دیتے ہوئے انہوں نے ماڈلنگ سے دوری اختیار کی۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟
ماڈلنگ سے کنارہ کشی کے بعد عبداللہ اعجاز اب اپنی توجہ اداکاری پر مرکوز کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے کام کے انتخاب میں احتیاط برتنی شروع کر دی ہے تاکہ وہ اپنی صحت کو برقرار رکھ سکیں۔ مداحوں کو چاہیے کہ وہ ان کے حالیہ پروجیکٹس میں ان کی صحت کے مطابق تبدیلیوں کو سمجھیں اور ان کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کریں۔ عبداللہ اعجاز کا یہ فیصلہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک مثال ہے جو اپنی صحت کو نظر انداز کر کے کام میں مصروف رہتے ہیں۔
