عبداللہ شفیق نے فارم میں واپسی کا کریڈٹ ڈومیسٹک کرکٹ کو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ٹو ٹورنامنٹ نے ان کے کھیل کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ طویل عرصے سے رنز کے لیے جدوجہد کرنے والے اوپننگ بیٹر کا ماننا ہے کہ ڈومیسٹک سطح پر زیادہ سے زیادہ وقت کریز پر گزارنے سے انہیں اپنی تکنیکی غلطیوں کو درست کرنے کا موقع ملا۔

پریذیڈنٹ ٹرافی اور فارم کی بحالی

بین الاقوامی کرکٹ کے دباؤ میں اکثر کھلاڑی اپنی تکنیک کھو بیٹھتے ہیں۔ عبداللہ شفیق کے مطابق، ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی ان کے لیے ایک بہترین فیصلہ ثابت ہوئی کیونکہ وہاں انہیں میڈیا اور شائقین کے دباؤ سے دور رہ کر اپنی بیٹنگ پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملا۔

  • تکنیکی خامیوں کو درست کرنے کے لیے پرسکون ماحول۔
  • طویل فارمیٹ میں زیادہ سے زیادہ وقت کریز پر گزارنا۔
  • میچ پریکٹس کے ذریعے کھویا ہوا اعتماد بحال کرنا۔

ڈومیسٹک کرکٹ کی اہمیت

پاکستان میں اکثر یہ بحث ہوتی ہے کہ ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ کے معیار میں کتنا فرق ہے، لیکن عبداللہ شفیق کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ بنیادی تکنیک کو بہتر بنانے کے لیے ڈومیسٹک میچز اب بھی سب سے مؤثر ذریعہ ہیں۔ جب کوئی کھلاڑی اپنی فارم کھو دیتا ہے، تو اسے ڈومیسٹک کرکٹ میں واپس بھیجنا ایک مثبت قدم ہے جو اسے دوبارہ پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دیتا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

آنے والے انٹرنیشنل سیزن کے پیش نظر، سلیکٹرز کی نظریں عبداللہ شفیق کی کارکردگی پر ہوں گی۔ اگر وہ اپنی اس فارم کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں تو ٹیسٹ ٹیم میں ان کی جگہ یقینی ہو جائے گی۔ شائقین کو اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا وہ اپنی اسی فارم کو انٹرنیشنل بولرز کے خلاف بھی برقرار رکھ پاتے ہیں یا نہیں۔