عبداللہ طاہر انویسٹی گیشن کا دائرہ کار اس وقت مزید وسیع ہو گیا جب لاہور پولیس نے مقتول پی ٹی آئی رہنما کے ڈرائیور اور مبینہ سہولت کاروں کو حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق، قتل کی تفتیش اب صرف مرکزی ملزمان تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس میں ڈرائیور، مبینہ نشاندہی کرنے والا (اسپاٹر) اور فرار کے لیے کرائے کی گاڑی کا انتظام کرنے والے افراد بھی شامل ہو گئے ہیں۔

سہولت کاروں کا نیٹ ورک بے نقاب

پولیس کی جانب سے اکٹھی کی گئی انٹیلی جنس معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قتل ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھا۔ ڈرائیور کی حراست سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ یا تو اندرونی ملی بھگت شامل تھی یا پھر ایسی غفلت برتی گئی جس نے حملہ آوروں کو مقتول کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کا موقع فراہم کیا۔

کیس میں اہم پیش رفت درج ذیل ہیں:
- مقتول کے ڈرائیور کی حراست، جس سے نقل و حرکت کے ریکارڈ کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
- مبینہ نشاندہی کرنے والے (اسپاٹر) کی گرفتاری جس نے پی ٹی آئی رہنما کے ٹھکانے کی اطلاع دی۔
- کرائے کی گاڑی فراہم کرنے والے افراد کی گرفتاری جو فرار میں استعمال ہوئی تھی۔

کرائے کی گاڑی کا کردار

تفتیشی ٹیمیں اب کرائے کی اس گاڑی کے لاجسٹک ٹریل پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں جو فرار کے لیے استعمال ہوئی۔ کرائے کے معاہدے کا سراغ لگا کر، پولیس ان سہولت کاروں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے جنہوں نے گاڑی فراہم کی تھی۔ عبداللہ طاہر انویسٹی گیشن میں یہ پیش رفت انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ یہ جائے وقوعہ کو ایک بڑے نیٹ ورک سے جوڑتی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھ رہی ہے، اصل توجہ اس بات پر ہے کہ کیا یہ نئے گرفتار شدہ افراد پولیس کو حملے کے ماسٹر مائنڈ تک لے جائیں گے۔ عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ لاہور پولیس کی جانب سے کرائے کی گاڑی کی فرانزک رپورٹ اور ملزمان کے موبائل فونز سے ملنے والے ڈیجیٹل شواہد کے بارے میں اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا تاکہ حملے کے محرکات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اگر آپ اس کیس کو فالو کر رہے ہیں، تو سی سی پی او لاہور کے دفتر سے جاری ہونے والی سرکاری پریس ریلیز پر نظر رکھیں، کیونکہ آنے والے دنوں میں مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔