عبداللہ طاہر قتل کیس کی تفتیش میں ایک سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق مقتول کے ڈرائیور کو ایک 22 سالہ لڑکی کے ذریعے ہنی ٹریپ کیا گیا تھا۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کی ایک ساتھی لڑکی نے مقبول ترین سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کے ذریعے عبداللہ طاہر کے ڈرائیور سے پہلی بار رابطہ کیا تھا، جس کے بعد مجرمانہ نیٹ ورک نے اسے اپنے جال میں پھنسایا۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا کے ذریعے جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی ایک اور خطرناک مثال پیش کرتا ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے اب اس ڈیجیٹل گٹھ جوڑ کی گہرائی سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔

ٹک ٹاک کے ذریعے ڈیجیٹل جال سازی

تفتیشی ذرائع کے مطابق 22 سالہ لڑکی نے ٹک ٹاک کے ذریعے ڈرائیور سے رابطہ بڑھایا اور آہستہ آہستہ دوستی کی آڑ میں اس کی ذاتی معلومات حاصل کیں۔ پولیس کا ماننا ہے کہ اس ڈیجیٹل رابطے کا بنیادی مقصد عبداللہ طاہر کے معمولات، نقل و حرکت اور دیگر کمزوریوں کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنا تھا۔ ڈرائیور کے موبائل فون کا فارنزک تجزیہ اور کال ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے تاکہ اس سازش میں شامل دیگر کرداروں کو بھی بے نقاب کیا جا سکے، جو پردے کے پیچھے رہ کر اس پورے منصوبے کو چلا رہے تھے۔

پولیس کی اگلی کارروائی اور تفتیش

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کیس میں ملوث تمام ممکنہ سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے ڈرائیور اور خاتون سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس واردات کے پیچھے ڈکیتی کا ارادہ تھا یا کوئی سوچی سمجھی ٹارگٹ کلنگ۔ جیو فینسنگ اور ڈیجیٹل شواہد کی روشنی میں ملزمان کے مزید ساتھیوں تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور جلد عدالت سے ان کے مزید ریمانڈ کی استدعاء کی جائے گی۔

شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات

اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال کرتا ہے، تو نامعلوم افراد بالخصوص اچانک دوستی کا ہاتھ بڑھانے والوں سے ہوشیار رہیں۔ اپنے دفتر، مالک، کاروباری معاملات یا روزمرہ کے روٹس کی تفصیلات کسی اجنبی کے ساتھ ہرگز شیئر نہ کریں۔ جرائم پیشہ گروہ اکثر ملازمین اور ڈرائیورز کو ہدف بنا کر اہم شخصیات کی ریکی کرواتے ہیں۔ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے سائبر کرائم ونگ سے رجوع کریں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔