ابوظہبی کی جانب سے بھارتی سیاحوں کے لیے تین ماہ کے مفت ٹورسٹ ویزا کے اعلان نے سوشل میڈیا پر کافی بحث چھیڑ دی ہے۔ بہت سے پاکستانیوں کے لیے یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا یہ سہولت ان کے لیے بھی دستیاب ہے یا نہیں۔ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ابوظہبی ویزا کی یہ پالیسی صرف بھارتی شہریوں کے لیے ایک مخصوص پروموشنل پیشکش ہے۔

ابوظہبی ویزا پالیسی کی حقیقت

محکمہ ثقافت و سیاحت ابوظہبی کی جانب سے شروع کی گئی اس پیشکش کا دورانیہ یکم اگست 2026 سے 31 اکتوبر 2026 تک ہے۔ اس کا مقصد بھارت سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ اس پیشکش کے تحت منتخب مسافروں کے ویزا کی مکمل فیس معاف کی جائے گی، لیکن یہ رعایت صرف بھارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے مختص ہے۔

پاکستانی شہریوں کے لیے متحدہ عرب امارات کی ویزا پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اگر آپ پاکستان سے یو اے ای کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو آپ کو بدستور معمول کے مطابق ویزا فیس ادا کرنی ہوگی اور تمام متعلقہ دستاویزات مکمل کرنی ہوں گی۔

پاکستانی مسافروں کے لیے اہم نکات

اکثر ایسی خبریں سن کر یہ غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے کہ یہ سہولت تمام جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے ہے۔ تاہم، یو اے ای حکومت سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ الگ الگ معاہدے اور پیشکشیں کرتی ہے۔ پاکستانی مسافروں کو چاہیے کہ وہ اس قسم کی خبروں سے متاثر ہو کر اپنی سفری منصوبہ بندی نہ کریں۔

اگر آپ یو اے ای جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں، تو درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں:

  • ہمیشہ متحدہ عرب امارات کے سرکاری پورٹل (u.ae) سے اپنے پاسپورٹ کی بنیاد پر تازہ ترین ویزا شرائط چیک کریں۔
  • کسی بھی غیر تصدیق شدہ خبر پر بھروسہ کرنے کے بجائے مستند ٹریول ایجنٹس سے رابطہ کریں۔
  • اپنی سفری بجٹ میں ویزا فیس کو شامل رکھیں کیونکہ پاکستانیوں کے لیے کوئی مفت ویزا پالیسی فی الحال جاری نہیں کی گئی ہے۔

مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے؟

متحدہ عرب امارات سیاحتی شعبے میں اپنی پہنچ بڑھانے کے لیے آئے دن نئی پالیسیاں متعارف کراتا رہتا ہے۔ اگرچہ یہ موجودہ پیشکش صرف بھارتی سیاحوں کے لیے ہے، لیکن یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے بھی سہولیات میں اضافہ کیا جائے۔ تاہم، کسی بھی سرکاری اعلان سے قبل افواہوں پر کان نہ دھریں۔

اگر آپ یو اے ای کے سفر کے لیے ویزا اپلائی کرنا چاہتے ہیں، تو یو اے ای کی وزارت داخلہ کی آفیشل ویب سائٹ ہی معلومات کا واحد مستند ذریعہ ہے۔ کسی بھی تبدیلی کی صورت میں وہاں سب سے پہلے اپ ڈیٹ جاری کی جاتی ہے۔