قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کے انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے چیف الیکشن کمشنر کی فوری تقرری کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کے روز وزیراعظم شہباز شریف کو لکھے گئے ایک خط میں اچکزئی نے زور دیا کہ انتخابی ادارے میں قیادت کا خلا جمہوری عمل پر عوام کے اعتماد کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ اس اہم آئینی عہدے پر تقرری کے عمل کو بلا تاخیر مکمل کیا جائے تاکہ انتخابی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیوں ضروری ہے؟
یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کا موقف ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ اتنا حساس ہے کہ اسے زیادہ دیر خالی نہیں رکھا جا سکتا۔
- خط پیر کو وزیراعظم ہاؤس میں جمع کرایا گیا۔
- تقرری کے لیے شفاف اور مشاورتی عمل پر زور دیا گیا ہے۔
- اپوزیشن کا ماننا ہے کہ ادارے میں قیادت کی کمی سے ضمنی انتخابات متاثر ہو سکتے ہیں۔
سیاسی تناظر
الیکشن کمیشن آف پاکستان گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی دباؤ اور تنقید کی زد میں ہے۔ محمود خان اچکزئی کا یہ اقدام پارلیمانی سطح پر حکومت پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایک عام شہری کے لیے اس تقرری کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ انتخابی عمل کی شفافیت کا انحصار براہ راست الیکشن کمیشن کی قیادت پر ہوتا ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
فی الحال وزیراعظم آفس کی جانب سے اس خط پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ آئینی تقاضوں کے مطابق، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مشاورت ضروری ہے۔ اگر حکومت اس عمل کو شروع کرتی ہے تو قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کے درمیان ناموں پر اتفاق رائے کے لیے اجلاس متوقع ہیں۔
آپ اس معاملے پر پیش رفت کے لیے سرکاری اعلانات اور پارلیمانی نوٹیفکیشنز پر نظر رکھ سکتے ہیں۔
