مردان پریس کلب کا تنازعہ اب ایک نئے موڑ پر داخل ہو گیا ہے کیونکہ الٹرنیٹو ڈسپیوٹ ریزولیوشن (اے ڈی آر) کونسل کے چیئرمین حاجی محمد ہمایوں خلجی نے معاملے کو حل کرنے کے لیے مداخلت شروع کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ادارے کے اندر جاری انتظامی تعطل اور دھڑے بندی کو ختم کرنا ہے۔
مردان پریس کلب تنازعہ کی نوعیت
گزشتہ کئی ماہ سے مردان پریس کلب اندرونی خلفشار کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجوہات رکنیت کے معیار، انتخابات کے طریقہ کار اور انتظامی امور پر اختلافات ہیں۔ اس کشیدگی کی وجہ سے مقامی صحافیوں کا یہ اہم فورم اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری کرنے میں مشکلات کا شکار رہا ہے۔
چیئرمین حاجی محمد ہمایوں خلجی نے اب فریقین کے درمیان ثالثی کا عمل شروع کیا ہے تاکہ تنازعہ کو عدالتوں میں جانے سے روکا جا سکے اور ادارے کے اندر افہام و تفہیم پیدا کی جا سکے۔ اے ڈی آر کا مقصد فریقین کے درمیان متفقہ حل تلاش کرنا ہے۔
اے ڈی آر کی مداخلت کے اہم نکات
اے ڈی آر ٹیم فی الحال تین بنیادی شعبوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے:
- رکنیت کی تصدیق: کلب کے آئین کے مطابق ممبران کی فہرست کی جانچ پڑتال۔
- انتخابی ڈھانچہ: آئندہ انتخابات کے لیے شفاف ٹائم لائن اور طریقہ کار کا تعین۔
- انتظامی اصلاحات: کلب کے روزمرہ کے امور اور مالیاتی معاملات سے متعلق شکایات کا ازالہ۔
آگے کیا ہوگا؟
اگر آپ مردان کی صحافتی برادری کا حصہ ہیں، تو آنے والے چند ہفتے بہت اہم ہیں۔ اے ڈی آر کونسل اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کرے گی تاکہ متفقہ تجاویز پیش کی جا سکیں۔
متعلقہ افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اے ڈی آر کے ساتھ رابطے میں رہیں اور اپنی رکنیت یا انتخابی دعووں سے متعلق تمام دستاویزات تیار رکھیں۔ اس ثالثی کا حتمی ہدف کلب میں انتخابات کا انعقاد ہے، تاکہ ایک نئی منتخب باڈی کے ذریعے ادارے کے وقار کو بحال کیا جا سکے۔
