پندرہ اگست 2025 بروز ہفتہ کابل کی اہم سڑکوں پر سیاہ عبارت والے سفید طالبان پرچم لہرائے گئے کیونکہ انتظامیہ نے اقتدار میں واپسی کی پانچویں سالگرہ منائی۔ افغان حکام نے ملک بھر میں سرکاری تقریبات اور سکیورٹی پریڈ کا انعقاد کر کے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ حکومت ریاست پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔تاہم، بین الاقوامی مبصرین اور امدادی اداروں نے زمینی حقائق کو یکسر مختلف قرار دیتے ہوئے گہرے معاشی بحران اور عام شہریوں کو درپیش مشکلات کی نشان دہی کی۔

کابل میں امریکی سفارت خانے کے سابقہ دفتر کے باہر طالبان کے مسلح سکیورٹی قافلے موجود تھے جبکہ عالمی تنظیموں نے نئی وارننگز جاری کیں۔ عالمی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ فنڈز کی شدید کمی کی وجہ سے بنیادی خدمات، خوراک کی فراہمی اور لاکھوں افغان شہریوں کے لیے صحت کی سہولیات خطرے میں پڑ چکی ہیں۔ اس جاری انسانی بحران کی وجہ سے پاکستان سمیت پڑوسی ممالک پر بھی دباؤ برقرار ہے جو کہ مہاجرین، تجارت اور سرحدی سلامتی کے حوالے سے اہم ہیں۔

معاشی دباؤ اور بین الاقوامی تنہائی

اگست 2020 کی سیاسی تبدیلی کے پانچ سال بعد بھی افغانستان کی معیشت عالمی مالیاتی نظام سے الگ ہے۔ بیرون ملک منجمد مرکزی بینک کے ذخائر اور سخت بین الاقوامی پابندیوں نے ملکی تجارت کو مفلوج کر رکھا ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اگرچہ کابل نے پاکستان، چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن باضابطہ سفارتی تسلیم نہ کیے جانے کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

امدادی اداروں کی تنبیہات اور فنڈز کی کمی

خطے میں کام کرنے والے بین الاقوامی فلاحی اداروں کا کہنا ہے کہ عطیات میں کمی کی وجہ سے گزشتہ بارہ ماہ کے دوران انسانی امداد کے بجٹ میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ لاکھوں خاندان خوراک کی قلت کا شکار ہیں، اور خشک سالی اور سیلاب جیسے موسمیاتی بحرانوں نے زرعی پیداوار کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ دیہی علاقوں میں صحت کے مراکز کو ادویات اور طبی عملے کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس سے خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

آئندہ کے لیے اہم امور

پاکستان اور عالمی برادری کے لیے آنے والے مہینے علاقائی استحکام کے حوالے سے اہم ہوں گے۔ آنے والے مہینوں میں اقوام متحدہ کی انسانی امداد سے متعلق کانفرنسیں متوقع ہیں جو سردیوں کے موسم میں خوراک اور طبی امداد کی فراہمی کا مستقبل طے کریں گی۔ اس کے علاوہ مبصرین اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا علاقائی سفارتی کوششیں انسانی حقوق اور جامع حکومت کے قیام میں کوئی پیش رفت حاصل کر پاتی ہیں یا نہیں۔