افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں جاری سونے کی بے ہنگم کان کنی نے علاقے کا منظرنامہ مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے، جس سے مقامی باشندوں کی روایتی زندگی اور چراگاہیں شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

بدخشاں میں سونے کی دوڑ کی وسعت

بدخشاں کے پہاڑی علاقوں میں ہزاروں افراد کان کنی میں مصروف ہیں، جہاں درجنوں کھدائی کرنے والی مشینیں دن رات کام کر رہی ہیں۔ یہ وہ پہاڑی علاقے ہیں جہاں کبھی مقامی لوگ اپنے مویشی چراتے تھے، لیکن اب یہ جگہیں صنعتی کھدائی کے مراکز میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ کان کنی کا یہ عمل اتنا وسیع ہے کہ پہاڑوں کا قدرتی حسن اور ڈھانچہ تیزی سے تباہ ہو رہا ہے۔

  • ہزاروں کی تعداد میں کان کن مختلف مقامات پر کام کر رہے ہیں۔
  • بھاری مشینری اور کھدائی کرنے والی مشینیں 24 گھنٹے کام میں مصروف ہیں۔
  • مویشیوں کے لیے روایتی چراگاہوں کا استعمال ختم ہو چکا ہے۔

معاشی اثرات اور ماحولیاتی خدشات

مقامی آبادی کے لیے یہ صورتحال ایک دہری تلوار کی طرح ہے۔ ایک طرف تو یہ کان کنی روزگار کے عارضی مواقع فراہم کر رہی ہے، لیکن دوسری طرف اس سے ماحولیاتی تباہی کے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ غیر منظم کھدائی کی وجہ سے مٹی کا کٹاؤ بڑھ رہا ہے اور مقامی آبی ذخائر آلودہ ہو رہے ہیں، جو زراعت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

زیادہ تر کان کنی غیر قانونی اور حکومتی نگرانی کے بغیر ہو رہی ہے، جس کے باعث نہ تو مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا ہے اور نہ ہی ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ پہاڑوں کی کھدائی سے زمین کی زرخیزی ختم ہو رہی ہے، جس سے مستقبل میں کھیتی باڑی اور مال مویشی پالنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا کابل میں موجود حکام ان آپریشنز کو باقاعدہ بنانے کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کریں گے یا نہیں۔ نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے کان کنی کے حادثات، بشمول تودے گرنے اور سرنگوں کے بیٹھ جانے کے خطرات مسلسل موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، ماحولیاتی نقصان کا خمیازہ مقامی لوگوں کو بھگتنا پڑے گا جن کے پاس اب مویشی چرانے کے لیے زمین نہیں بچی۔

خطے میں ہونے والی ان معاشی تبدیلیوں کے پیش نظر، یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ سونے کی کان کنی واقعی معاشی بہتری لائے گی یا پھر یہ صوبہ بنجر زمینوں کے ساتھ تنہا رہ جائے گا۔