احمد آباد سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح نے 15 اگست 2026 کو سری نگر کے مشہور لال چوک پر اپنے پورے جسم کو بھارتی ترنگے کے رنگوں میں رنگ کر بھارت کا یوم آزادی منایا۔

گجرات سے تعلق رکھنے والے اس مسافر نے وادی کے اس مرکزی کاروباری مرکز میں حب الوطنی کے علامات کی نمائش کی اور راہگیروں کی توجہ کا مرکز بنے۔ اس دوران شہر کے انتہائی حساس اور سکیورٹی حصار میں جکڑے ہوئے مرکز میں سکیورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔

لال چوک کی صورتحال

لال چوک تاریخی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے میں سیاسی مظاہروں اور سرکاری تقریبات کا مرکز رہا ہے۔ 15 اگست 2026 کو سری نگر بھر میں تعطیل کے پیش نظر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ گجرات کے اس باشندے کی جانب سے گھنٹہ گھر کے قریب کیے جانے والے اس عوامی مظاہرے پر مقامی دکانداروں اور راہگیروں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔

بھارت کے مختلف حصوں سے سیاح گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران کشمیر کی وادی کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم اس طرح کے انوکھے عوامی مظاہرے عام طور پر سرکاری تقریبات سے ہٹ کر کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔

سکیورٹی اور عوامی ردعمل

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تعطیل سے قبل سری نگر کے اہم چوراہوں پر اضافی اہلکار تعینات کیے تھے۔ اگرچہ سکیورٹی فورسز نے لال چوک پر ہونے والے اجتماع پر گہری نظر رکھی، تاہم دوپہر کی تقریبات کے دوران کسی بڑے واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

سری نگر کے مقامی رہائشیوں نے اکثر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ علاقے میں قومی تعطیلات کے موقع پر سخت سکیورٹی کے باعث عام کاروباری سرگرمیاں اور نقل و حرکت شدید متاثر ہوتی ہے۔

اگلا مرحلہ

جموں و کشمیر میں حکام یوم آزادی کی تقریبات کے اختتام کے بعد سکیورٹی پروٹوکول کا جائزہ لیں گے۔ مبصرین اس بات پر نظر رکھیں گے کہ باہر سے آنے والے سیاحوں کی جانب سے ایسے عوامی مظاہروں کے بعد وادی کے حساس عوامی علاقوں میں سیاحوں کے لیے کوئی نئی انتظامی ہدایات جاری کی جاتی ہیں یا نہیں۔