وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس رابطے کا مرکزی مقصد حکومت کی جانب سے ملکی حالات اور اہم قومی امور پر بریفنگ کی پیشکش کرنا تھا۔
سیاسی رابطے اور حکومتی حکمت عملی
احسن اقبال لیاقت بلوچ کے درمیان یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے۔ حکومت کی جانب سے اپوزیشن اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومتی حلقے موجودہ بحرانی کیفیت میں سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، لیاقت بلوچ نے اس رابطے کے دوران حکومتی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جماعت اسلامی کا معاشی مؤقف
لیاقت بلوچ نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ حکومت کو محض بریفنگ دینے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر ہونے والی ناجائز منافع خوری اور بھتہ خوری کے سلسلے کو فوری طور پر بند کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ میں مصنوعی مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، اور حکومت کی جانب سے ان عناصر کے خلاف کارروائی نہ کرنا افسوسناک ہے۔
عوام کے لیے کیا اہم ہے؟
اس ٹیلیفونک رابطے کے بعد اب عوام کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا یہ محض ایک رسمی رابطہ ہے یا اس کے نتیجے میں کوئی عملی پیش رفت ہوگی۔ شہریوں کو درج ذیل نکات پر نظر رکھنی چاہیے:
- کیا حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا کوئی شیڈول طے پاتا ہے؟
- کیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور منافع خوری کے معاملے پر حکومتی سطح پر کوئی نئی پالیسی سامنے آتی ہے؟
- مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف انتظامی کارروائی میں کوئی تیزی آتی ہے یا نہیں؟
حکومت کی جانب سے سیاسی رابطوں کا یہ سلسلہ یہ ثابت کرنے کی کوشش ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہتی ہے۔ تاہم، معاشی بہتری کے بغیر عوام میں پایا جانے والا اضطراب کم ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ سیاسی رابطے عوامی ریلیف میں بدل پاتے ہیں یا نہیں۔
