وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے سیالکوٹ کی صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے پر زور دیا ہے تاکہ ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے۔
سیالکوٹ کے دورے کے دوران وزیر منصوبہ بندی نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی صنعت کاروں کو روایتی پیداواری طریقوں سے نکل کر جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کے لیے کوالٹی اور معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر پیداواری عمل کو خودکار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سیالکوٹ میں ٹیکنالوجی کی ضرورت کیوں ہے؟
سیالکوٹ کھیلوں کے سامان، سرجیکل آلات اور چمڑے کی مصنوعات کے حوالے سے پاکستان کی پہچان ہے۔ تاہم، عالمی منڈی کے بدلتے ہوئے تقاضے اب اعلیٰ درجے کی آٹومیشن اور درستگی (Precision) کا مطالبہ کرتے ہیں۔ احسن اقبال نے واضح کیا کہ اگر مقامی صنعتوں نے جدید مشینری اور ڈیجیٹل سپلائی چین کو نہیں اپنایا تو وہ عالمی منڈی میں اپنی جگہ برقرار نہیں رکھ سکیں گی۔
مقامی صنعت کاروں کے لیے اہم اہداف
- کوالٹی کنٹرول: سرجیکل اور کھیلوں کے سامان میں درستگی کے لیے جدید مانیٹرنگ ٹولز کا استعمال۔
- پیداواری استعداد: دستی کام کے بجائے آٹومیٹڈ لائنز کے ذریعے پیداوار میں اضافہ۔
- برآمدات میں توسیع: یورپی اور امریکی منڈیوں کے سخت تکنیکی معیارات کو پورا کرنا۔
- مہارتوں کی تربیت: مقامی لیبر کو جدید سی این سی (CNC) مشینوں اور خودکار نظام چلانے کی تربیت دینا۔
اگلا قدم کیا ہوگا؟
مقامی صنعت کاروں کے لیے یہ ایک اشارہ ہے کہ حکومت جلد ہی انڈسٹریل زونز میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے اقدامات کرے گی۔ اگر آپ سیالکوٹ میں کاروباری ہیں، تو آپ کو ان حکومتی گرانٹس اور رعایتی قرضوں پر نظر رکھنی چاہیے جو جدید مشینری کی خریداری کے لیے مختص کیے جا سکتے ہیں۔
سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SCCI) اور وفاقی اداروں کے درمیان اس حوالے سے روڈ میپ کی تیاری متوقع ہے۔ کاروباری مالکان کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے پیداواری عمل کا جائزہ لیں اور ان شعبوں کی نشاندہی کریں جہاں آٹومیشن سے منافع بڑھایا جا سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے مالی معاونت کے پیکیجز کی تفصیلات آنے والے مہینوں میں متوقع ہیں۔
