مصنوعی ذہانت معیشت کو تبدیل کر رہی ہے
سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور آٹومیشن دنیا بھر میں معیشتوں اور معاشروں کو تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں۔ ہفتے کی شام 19 اکتوبر 2024 کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روبوٹکس اور مشین لرننگ اب مستقبل کا خواب نہیں بلکہ حقیقت ہیں جنہیں پاکستان کے تعلیمی نظام میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔
وزیراعلیٰ نے جی یو ٹیک (GU Tech) اور الغزالی یونیورسٹی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے جدت اور عملی تعلیم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی طلباء کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنائیں تاکہ وہ بدلتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا سکیں۔
طلباء کے لیے ٹیکنالوجی کیوں ضروری ہے؟
عالمی سطح پر آٹومیشن کی طرف منتقلی کا مطلب ہے کہ روایتی تعلیمی طریقے اب ناکافی ہیں۔ جیسے جیسے صنعتیں AI پر مبنی سسٹمز کی طرف بڑھ رہی ہیں، وزیر اعلیٰ نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ان ٹولز کو سیکھیں تاکہ وہ مسابقتی رہ سکیں۔ پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کا صارف بننے کے بجائے ایک تخلیق کار کی حیثیت سے ابھرے۔
- صرف نظریاتی تعلیم کے بجائے عملی مہارتوں پر توجہ دیں۔
- یونیورسٹیوں کے انوویشن ہبز کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ عملی تجربہ حاصل ہو۔
- روبوٹکس اور AI سسٹمز میں تکنیکی سرٹیفیکیشن کو ترجیح دیں۔
سندھ میں تعلیمی خلا کو پُر کرنا
کراچی اور سندھ بھر کے طلباء کے لیے سب سے بڑا چیلنج صحیح وسائل تک رسائی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے نجی شعبے کی یونیورسٹیوں کی حوصلہ افزائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ڈیجیٹل تفریق کو کم کرنا چاہتی ہے۔ جی یو ٹیک اور الغزالی یونیورسٹی جیسے اداروں کو فروغ دے کر حکومت ایک ایسی افرادی قوت تیار کرنا چاہتی ہے جو جدید خودکار صنعتوں کے تقاضوں کو سمجھ سکے۔
اگر آپ طالب علم ہیں یا پروفیشنل، تو آپ کو ایسے ووکیشنل کورسز تلاش کرنے چاہئیں جو آپ کو آٹومیشن سافٹ ویئر اور روبوٹک ڈیزائن میں عملی تجربہ فراہم کریں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اشارہ ملا ہے کہ آئندہ ترقیاتی گرانٹس ان اداروں کو دی جائیں گی جو جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں واضح پیش رفت دکھائیں گے۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟
آئندہ تعلیمی پالیسیوں پر نظر رکھیں، کیونکہ توقع ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور صوبائی ادارے انڈرگریجویٹ پروگراموں میں لازمی ٹیکنالوجی ماڈیولز شامل کرنے پر زور دیں گے۔ جیسے جیسے AI صوبائی پالیسی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، امید ہے کہ بڑے شہروں میں لیب انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے لیے سرکاری و نجی اشتراک میں مزید اضافہ ہوگا۔
