دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے سرجنوں کی ٹیم نے 209 کلوگرام وزنی مریض کی کامیاب بیریٹرک سرجری کر کے ایک نئی طبی تاریخ رقم کی ہے۔ یہ کامیابی ان مریضوں کے لیے ایک امید کی کرن ہے جو شدید موٹاپے اور اس سے جڑی پیچیدہ بیماریوں کا شکار ہیں۔
بیریٹرک سرجری کے لیے خصوصی تیاری
ایمس دہلی کے ڈاکٹروں نے اس پیچیدہ آپریشن سے قبل تقریباً ایک ماہ تک خصوصی تیاری کی۔ اس دوران مریض کی صحت کو مستحکم کرنے کے لیے اینڈوکرائنولوجسٹ، کارڈیالوجسٹ اور ماہرینِ غذائیت پر مشتمل ایک ملٹی ڈسپلنری ٹیم نے کام کیا۔ اتنے زیادہ وزن والے مریض کے لیے اینستھیزیا اور جراحی کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں، اسی لیے ڈاکٹروں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ مریض کو سرجری کے لیے تیار کیا۔
یہ طبی کامیابی کیوں اہم ہے؟
پاکستان سمیت پورے خطے میں شدید موٹاپے کو اکثر ایک سنجیدہ طبی مسئلہ سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کے علاج کے لیے جدید اور محفوظ سہولیات تک رسائی ایک بڑا چیلنج ہے۔ دہلی ایمس کی یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ اگر مناسب منصوبہ بندی اور ماہرین کی نگرانی موجود ہو، تو انتہائی وزنی افراد کا بھی محفوظ طریقے سے علاج ممکن ہے۔ آپریشن کے بعد مریض کی صحت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، جو کہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
مریضوں کے لیے اہم مشورے
اگر آپ یا آپ کا کوئی قریبی عزیز وزن کم کرنے کے لیے سرجری کا ارادہ رکھتا ہے، تو درج ذیل باتوں کو ذہن میں رکھیں:
- ہمیشہ صرف مستند بیریٹرک سرجن سے مشورہ کریں۔
- اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہسپتال میں ماہرین کی ایک مکمل ٹیم موجود ہو۔
- سرجری سے قبل دل اور پھیپھڑوں کے مکمل ٹیسٹ لازمی کروائیں۔
مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے؟
اس کامیاب سرجری کے بعد اب ڈاکٹرز مریض کی طویل مدتی بحالی پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں مریض کے میٹابولک ریٹ اور غذائی اجزاء کے جذب ہونے کے عمل کی نگرانی کی جائے گی۔ جو لوگ اس طرح کے علاج کے خواہشمند ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ صرف جراحی کے نتائج پر انحصار کرنے کے بجائے مکمل طبی جائزے کو ترجیح دیں۔
