ایئر انڈیا نے ان سابق ایتیھوپین ایئر لائنز کے طیاروں کو محفوظ بنا لیا ہے جن پر پہلے پی آئی اے غور کر رہی تھی، جو قومی ایئر لائن کے لیے ایک اور بڑا دھکا ہے۔ یہ پیشرفت اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے کہ ایتیھوپین ایئر لائنز گروپ کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر توولڈ گیبریماریم کو ایئر انڈیا کا نیا چیف ایگزیکٹو اور مینیجنگ ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد اور کراچی کے ایوی ایشن حلقوں نے تصدیق کی ہے کہ یہ مخصوص طیارے پہلے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے لیے لیزنگ کے ابتدائی مذاکرات کے دوران زیر غور تھے۔ تاہم طویل بیوروکریटिक رکاوٹوں، مالیاتی غیر یقینی صورتحال اور نجکاری کے معاملات میں تاخیر کی وجہ سے یہ ڈیل کھٹائی میں پڑ گئی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی ایئر لائن نے بازی مار لی۔ پی آئی اے کی نجکاری کے عمل پر نظر رکھنے والے عام شہریوں کے لیے یہ ایک اور مایوس کن خبر ہے۔
ایئر انڈیا کی جارحانہ حکمت عملی
ایئر انڈیا میں توولڈ گیبریماریم کی تقرری نے ان کے فلیٹ کی توسیع کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقی ایوی ایشن مارکیٹ میں ان کے تعلقات اور تجربے نے اس ڈیل کو جلد طے کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جانب پی آئی اے کی انتظامیہ تاحال پاکستان کی وزارتِ نجکاری کے تحت اندرونی اصلاحات اور نجکاری کے مراحل سے گزر رہی ہے۔
سرکاری اداروں کی نجکاری سے متعلق تفصیلات سرکاری پورٹل privatisation.gov.pk پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان تاخیر زدہ فیصلوں کا براہ راست اثر عام مسافروں پر پڑتا ہے جنہیں مہنگے ٹکٹوں اور محدود پروازوں کا سامنا ہے۔
پاکستانی ایوی ایشن سیکٹر پر اثرات
قابل عمل طیاروں سے محروم ہونے کا براہ راست اثر مقامی مسافروں کے لیے روٹس کی توسیع پر پڑتا ہے۔ کم طیاروں کی موجودگی کی وجہ سے پی آئی اے کا بین الاقوامی فلائٹ شیڈول تاخیر اور منسوخی کا شکار رہتا ہے۔
مقامی مارکیٹ کے لیے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- اہم روٹس پر چلنے والے موجودہ طیاروں پر دباؤ میں اضافہ۔
- یورپ اور برطانیہ کے لیے بین الاقوامی پروازوں کی بحالی میں تاخیر۔
- فلائٹ آپریشنز جاری رکھنے کے لیے غیر ملکی طیاروں پر انحصار۔
- حکومت پر نجکاری کے عمل کو جلد مکمل کرنے کا دباؤ۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کی پی آئی اے کی کوئی پرواز بک ہے تو ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے piacom.pk کے ذریعے اپنے فلائٹ شیڈول کی لازمی تصدیق کریں۔ مسافروں کو مشورہ ہے کہ وہ کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے متبادل ایئر لائنز کے کرایوں کا بھی جائزہ لیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
حکومت پاکستان کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کے حتمی اشتہارات اور بولیوں پر نظر رکھیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ بین الاقوامی لیسرز پاکستانی ایوی ایشن مارکیٹ پر کتنا اعتماد برقرار رکھتے ہیں۔
