بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں ریاستی اسمبلی کی جانب احتجاجی مارچ کے دوران اے آئی ایس اے (AISA) اسٹوڈنٹ لیڈر نیہا بورا پر سیاہی پھینک دی گئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا ریاستی اسمبلی کے باہر حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہی تھیں۔

اے آئی ایس اے اسٹوڈنٹ لیڈر پر حملہ

احتجاج کے دوران نامعلوم افراد نے نیہا بورا پر سیاہی پھینک دی، جس سے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ اے آئی ایس اے کے کارکنوں نے اس عمل کو سیاسی انتقام اور آواز دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب مظاہرین اسمبلی بلڈنگ کی جانب بڑھ رہے تھے، اس دوران پولیس کی بھاری نفری بھی وہاں موجود تھی۔

مقامی طلبہ تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ یہ حرکت بی جے پی کے مقامی حامیوں کی جانب سے کی گئی ہے تاکہ احتجاج کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ نیہا بورا طویل عرصے سے جھارکھنڈ میں طلبا کے حقوق اور ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں اکثر حکومتی حلقوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا رہتا ہے۔

جھارکھنڈ کی سیاسی صورتحال

بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں اس وقت اسمبلی کا اجلاس جاری ہے، جس کے باعث مختلف تنظیمیں اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات بھارت میں بڑھتی ہوئی سیاسی عدم برداشت کی عکاسی کرتے ہیں۔ سیاہی پھینکنے کا یہ عمل اگرچہ روایتی احتجاجی حربوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن اسے ایک منتخب اسٹوڈنٹ لیڈر کے خلاف استعمال کرنا جمہوریت کے لیے تشویشناک سمجھا جا رہا ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

  • پولیس تفتیش: رانچی پولیس پر دباؤ ہے کہ وہ حملہ آوروں کی شناخت کرے اور کارروائی عمل میں لائے۔
  • طلبہ کا ردعمل: اے آئی ایس اے اور دیگر طلبہ تنظیموں کی جانب سے اس واقعے کے خلاف مزید احتجاجی مظاہروں کا امکان ہے۔
  • سیکیورٹی انتظامات: اسمبلی اجلاس کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت اقدامات متوقع ہیں، جس سے احتجاج کرنے والے گروپوں کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

پاکستانی قارئین کے لیے یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پڑوسی ملک میں سیاسی و طلبہ سیاست کس قدر ہنگامہ خیز موڑ لے چکی ہے۔ اس واقعے پر مزید اپ ڈیٹس کے لیے مقامی ذرائع ابلاغ پر نظر رکھنا ضروری ہوگا۔