تجربہ کار صحافی اے جے فلپ نے شری رام مندر ٹرسٹ کے سی ای او کے عہدے کے لیے ایک طنزیہ درخواست دائر کر کے ایودھیا مندر کے انتظامی امور پر بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ درخواست دراصل ان انتظامی خامیوں پر ایک گہرا طنز ہے جو اس بڑے مذہبی ادارے کے گرد موجود ہیں۔

شری رام مندر ٹرسٹ کے سی ای او کے عہدے پر سوالات

فلپ کی اس تجویز کا مقصد بڑے مذہبی اداروں کے مالیاتی انتظام اور عوامی توقعات کے درمیان تضاد کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے اپنی درخواست کے ذریعے چند اہم نکات اٹھائے ہیں جو مندر کی انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں:

  • عطیات میں مکمل مالی شفافیت کا مطالبہ۔
  • وی آئی پی کلچر کا خاتمہ جو عام عقیدت مندوں کے لیے مشکلات کا باعث بنتا ہے۔
  • شفافیت کے لیے عملے کو مسابقتی اور پیشہ ورانہ تنخواہیں دینا۔
  • ٹرسٹ کے زیر اہتمام عالمی معیار کی ہندو یونیورسٹی کا قیام۔

انتظامی اصلاحات کی ضرورت

اے جے فلپ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر چلنے والے ادارے کو فرسودہ انتظامی ڈھانچے کے بجائے جدید اصولوں پر استوار ہونا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ مندر ٹرسٹ کو ایک پروفیشنل ادارے کی طرح چلایا جانا چاہیے جہاں مالی نظم و ضبط کو سیاسی اثر و رسوخ پر فوقیت حاصل ہو۔

پاکستان میں بھی مذہبی ٹرسٹ اور ان کے وسائل کے انتظام کے حوالے سے عوامی حلقوں میں ایسی بحثیں وقتاً فوقتاً جنم لیتی رہتی ہیں۔ یہ معاملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کسی بھی بڑے عوامی ادارے میں جوابدہی کا ہونا کتنا ضروری ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

اگرچہ شری رام مندر ٹرسٹ نے اس طنزیہ درخواست پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ مذہبی اداروں میں انتظام اور عوامی سہولیات کو کیسے بہتر بنایا جائے۔ آئندہ دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا ٹرسٹ انتظامیہ اپنے مالیاتی گوشواروں اور عوامی رسائی کے حوالے سے کوئی نئی پالیسی اپناتی ہے یا نہیں۔