آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے ہفتہ ۱۴ ستمبر ۲۰۲۴ کو وزیر اعظم راجہ فیصل ممتاز راتھور کی سیٹ ایل اے-۱۷ مظفر آباد میں کامیابی کے خلاف دو درخواستوں کو مسترد کردیا ہے۔ فیصلہ ۲-۱ کے اکثریت سے سنایا گیا، جس میں کمیشن کے دو ارکان نے راتھور کی کامیابی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جبکہ ایک رکن نے اختلاف کیا اور کچھ پولنگ اسٹیشنوں میں دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا۔

اہم حقائق:
- سیٹ: ایل اے-۱۷ (مظفر آباد)
- انتخابی تاریخ: ۲۵ جولائی ۲۰۲۴
- فیصلے کی تاریخ: ۱۴ ستمبر ۲۰۲۴
- نتیجہ: دونوں درخواستیں مسترد
- آؤٹکم: راتھور کی کامیابی کی تصدیق

درخواستوں میں اپوزیشن کے امیدواروں نے پولنگ عمل میں بے قاعدگیوں کا الزام لگایا تھا، جن میں ووٹرز کو دبانے اور ووٹوں میں ہیرا پھیری شامل تھے۔ تاہم، الیکشن کمیشن نے کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی بنا پر نتائج کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ کمیشن کے چیئرمین اور دو ارکان نے درخواستیں مسترد کرنے کے حق میں رائے دی جبکہ ایک رکن نے اختلاف کیا اور کچھ پولنگ اسٹیشنوں میں دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا۔

راجہ فیصل ممتاز راتھور، جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے تعلق رکھتے ہیں، نے جولائی ۲۰۲۴ کی انتخابات میں ۵ ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے سیٹ جیت لی تھی۔ یہ کامیابی ان کی آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم کے عہدے کو مزید مستحکم کرتی ہے، جو وہ اپریل ۲۰۲۴ سے سنبھالے ہوئے ہیں۔

درخواستوں میں کیا دعوے کیے گئے تھے

دو مسترد شدہ درخواستوں میں اپوزیشن کے امیدواروں اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ارکان نے درج ذیل اعتراضات اٹھائے تھے:

  • ووٹرز کو دبانا: الزام کہ پولنگ عملے نے کچھ علاقوں میں ووٹروں کو ووٹ ڈالنے سے روکا۔
  • ووٹوں میں ہیرا پھیری: دعویٰ کہ راتھور کی جماعت کے حق میں اضافی ووٹ ڈالے گئے۔
  • نمائندے کے ذریعے ووٹنگ: رپورٹس کہ غیر مجاز افراد نے دوسرے افراد کی طرف سے ووٹ ڈالے۔

الیکشن کمیشن کی تحقیقاتی ٹیم نے کئی پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کیا، لیکن ان الزامات کی تصدیق کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت نہ مل سکا۔ تاہم، اختلاف رائے رکھنے والے رکن نے کہا کہ فارم-۴۵ (سرکاری پولنگ اسٹیشن کے نتائج کی شیٹ) میں عدم مطابقتوں کی وجہ سے مزید جانچ پڑتال کی ضرورت ہے۔

الیکشن کمیشن کا رد عمل

اپنی تفصیلی حکم نامے میں، کمیشن نے کہا کہ اگرچہ معمولی procedural خامیوں کا پتہ چلا ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی اتنی سنگین نہیں تھی کہ پورے انتخابات کو کالعدم قرار دیا جا سکے۔ اکثریت کے رائے نے زور دیا کہ ثبوت کا بوجھ درخواست گزاروں پر تھا، جنہوں نے ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکامی ظاہر کی۔

اختلاف رائے رکھنے والے رکن، جو آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہیں، نے کہا کہ بے قاعدگیاں اتنی اہم تھیں کہ کم از کم ۱۲ پولنگ اسٹیشنوں میں دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا جانا چاہیے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کمیشن اس تجویز کو قبول کرے گا یا کوئی حتمی حکم جاری کرے گا۔

اب کیا ہوگا؟

درخواستوں کے مسترد ہونے کے بعد، راتھور کی آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رہنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ تاہم، اختلاف رائے کی وجہ سے مزید قانونی چیلنجز یا سیاسی دباؤ کا امکان ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں، بشمول آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ، میں اپیل کر سکتی ہیں۔

ایل اے-۱۷ کے ووٹروں کے لیے، اس فیصلے کا مطلب ہے کہ انتخابات کے نتائج ویسے ہی نافذ العمل رہیں گے۔ الیکشن کمیشن نے تمام جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فیصلے کو قبول کریں اور کسی بھی طرح کی بے چینی پھیلانے سے گریز کریں۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ کو کسی بھی طرح کے مابعد فیصلے کے احتجاج کو روکنے کے لیے ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

کیا دیکھنا چاہیے

  • قانونی چیلنجز: کیا اپوزیشن جماعتیں آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گی؟
  • احتجاج: کیا مظفر آباد یا آزاد جموں و کشمیر کے دیگر حصوں میں مظاہرے ہو سکتے ہیں؟
  • انتخابی اصلاحات: کیا آزاد جموں و کشمیر حکومت پولنگ عمل میں بہتری کے لیے اقدامات کرے گی؟

آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ (www.ajkelection.gov.pk) جلد ہی مکمل حکم نامہ شائع کرے گی۔ شہری مزید تفصیلات کے لیے کمیشن کے ہیلپ لائن نمبر ۰۵۸۲۲-۹۲۰۰۱۱ پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

یہ ایک تازہ ترین خبر ہے۔ مزید معلومات دستیاب ہوتے ہی اپ ڈیٹس شامل کی جائیں گی۔