وفاقی وزیر مواصلات اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان نے خیبر پختونخوا میں صوبہ ہزارہ کے قیام کی غیر مشروط حمایت کرتے ہوئے ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہفتے کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف حصوں کے عوام بہتر گورننس اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے نئے صوبے چاہتے ہیں۔
صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ سن 2010 سے مسلسل جاری ہے اور علاقے کے عوام طویل عرصے سے اس کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر کی طرف سے اس مطالبے کی توثیق کے بعد ملکی سیاسی حلقوں میں نئے انتظامی یونٹس کا بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ علیم خان نے اس بات پر زور دیا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر انتظامی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔
نئے انتظامی یونٹس پر سنجیدہ غور
صوبہ ہزارہ کی حمایت کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں مجوزہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بھی مشاورت جاری ہے۔ حکارتی ذرائع کے مطابق ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ زیر غور ہے، جس میں پنجاب کو تین اور خیبر پختونخوا کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ کراچی اور گوادر جیسے اہم تجارتی اور اقتصادی شہروں کو وفاقی تحویل میں دینے کے حوالے سے بھی افواہیں اور تجاویز زیر گردش ہیں، تاہم اس پر سیاسی اور آئینی چیلنجز بھی موجود ہیں۔ آئی پی پی قیادت کا موقف ہے کہ ملک میں انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے چھوٹے صوبے ناگزیر ہیں۔
جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کی حمایت
علیم خان نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی جماعت جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے الگ صوبوں کے قیام کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے الگ انتظامی اکائیاں بنانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
- آئی پی پی جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی حامی ہے۔
- جماعت بہاولپور کو الگ انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔
- وفاقی سطح پر ہر صوبے میں چار انتظامی یونٹس بنانے کی تجاویز پر غور جاری ہے۔
ان تجاویز کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ بڑے صوبوں کا انتظام ایک مرکز سے چلانا مشکل ہو چکا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تقسیم سے انتظامی اخراجات میں اضافہ اور سیاسی تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
آپ کو اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں اور صوبائی اسمبلیوں کے ردعمل پر نظر رکھنی ہوگی۔ کسی بھی نئے صوبے کے قیام کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، اس لیے آئندہ دنوں میں سیاسی جوڑ توڑ میں تیزی آنے کا امکان ہے۔
