راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے علیمہ خان کورٹ کیس میں ہونے والی طویل تاخیر پر گہری تشویش اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں ججز تو انصاف فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، لیکن حکومت ان کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنے سے انکاری ہے جس کی وجہ سے عدالتی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

میڈیا گفتگو کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- عدالتی تعطل: علیمہ خان کا کہنا تھا کہ جج صاحبان انصاف دینا چاہتے ہیں لیکن حکومت ان کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیتی ہے۔
- حکومتی ترجیحات: انہوں نے الزام لگایا کہ پوری وفاقی حکومت اور ریاستی مشینری اس وقت ملک چلانے کے بجائے سپریم کورٹ کے معاملات کو مینیج کرنے میں مصروف ہے۔
- کیس میں تعطل: گزشتہ ایک ماہ سے ان کے اپنے کیس میں کوئی قانونی کارروائی یا پیش رفت نہیں ہوئی۔
- صاف مطالبہ: انہوں نے عدالت اور پراسیکیوشن کو چیلنج کیا کہ یا تو ان کے کیس کا فیصلہ سنا کر سزا دی جائے یا پھر ان پر قائم جھوٹے مقدمات کو فوری ختم کیا جائے۔

عدالتی احکامات کی حکومتی خلاف ورزی

میڈیا سے گفتگو کے دوران علیمہ خان نے ملک کے موجودہ قانونی اور آئینی بحران پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ انتظامیہ نے اپنی مرضی کے فیصلے ماننے اور ناپسندیدہ فیصلوں کو نظرانداز کرنے کی پالیسی اپنا کر عدالتوں کی طاقت کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ رویہ آئینِ پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

علیمہ خان نے صحافیوں کو بتایا، "جج اپنی بساط کے مطابق قانون کے تحت ریلیف دینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہم ایک خطرناک رجحان دیکھ رہے ہیں جہاں حکومت عدالتی احکامات کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیتی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ حکمران اتحاد اپنی تمام تر توانائیاں اور قومی وسائل سپریم کورٹ کے فیصلوں کا راستہ روکنے کے لیے استعمال کر رہا ہے، جس کی وجہ سے عام سائلین اور سیاسی قیدی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

علیمہ خان کورٹ کیس میں غیر معمولی تاخیر

اس میڈیا ٹاک کے دوران ان کا سب سے بڑا ذاتی شکوہ ان کے خلاف جاری مقدمات میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر تھی۔ علیمہ خان کورٹ کیس، جو کہ مختلف سیاسی احتجاجی مظاہروں اور الزامات پر مبنی ہے، گزشتہ تیس دنوں سے کسی بھی قسم کی پیش رفت سے محروم ہے۔

علیمہ خان اور تحریک انصاف کی قیادت کے دیگر اہل خانہ کو درپیش قانونی چیلنجز نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کی ہے۔ اپریل 2022 کی سیاسی تبدیلی اور اس کے بعد 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد سے پی ٹی آئی کے حامیوں اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان مقدمات میں شواہد نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن کارروائی کو لٹکانے کے لیے تادیبی حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، علیمہ خان کورٹ کیس میں اب تک کئی بار پراسیکیوٹرز کو تبدیل کیا گیا، سماعتیں ملتوی ہوئیں اور ایسے بیوروکریٹک طریقہ کار اپنائے گئے جنہوں نے مقدمے کے منطقی انجام تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ یہ رویہ نہ صرف ملزمان کے وسائل پر بوجھ بنتا ہے بلکہ عدالتی نظام کو بھی مفلوج کرتا ہے۔

انہوں نے کہا، "ایک ماہ سے میرے کیس میں کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔ اگر میں نے کوئی جرم کیا ہے تو ثبوت پیش کریں، ٹرائل چلائیں اور مجھے سزا دیں۔ اور اگر کوئی کیس نہیں ہے تو پھر اس تماشے کو ختم کریں اور مقدمہ خارج کریں۔ شہریوں کو اس طرح لٹکا کر رکھنا انصاف نہیں بلکہ ناانصافی کی بدترین مثال ہے۔"

پاکستان کے قانونی ماہرین بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ سیاسی رہنماؤں اور ان کے اہل خانہ کو طویل عرصے تک بغیر کسی فیصلے کے عدالتوں کے چکر لگوانا دراصل ان پر نفسیاتی اور سیاسی دباؤ برقرار رکھنے کا ایک حربہ ہے۔

عدلیہ کی آزادی اور سیاسی اثر و رسوخ

علیمہ خان کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان میں انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان تناؤ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس نے شہری آزادیوں، سیاسی جماعتوں کے حقوق اور سیاسی کارکنوں کی غیر قانونی حراست کے خلاف کئی تاریخی فیصلے دیے ہیں۔ تاہم، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے حکمران اتحاد نے ان فیصلوں پر عملدرآمد کے معاملے میں مسلسل مزاحمت دکھائی ہے۔

انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان تصادم پاکستان کی تاریخ میں کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، لیکن حالیہ دنوں میں یہ کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ جب ہائی کورٹ کے ججز ریاستی اداروں کی مداخلت کے خلاف کھلے خط لکھتے ہیں اور جب وزراء پریس کانفرنسوں میں سپریم کورٹ کے ججوں پر تنقید کرتے ہیں، تو طاقت کا توازن بری طرح بگڑ جاتا ہے۔ عدالتی احکامات ماننے سے انکار بیوروکریسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ بھی عدالتی احکامات کو نظرانداز کر سکتے ہیں۔ آئینی حدود کی یہ پامالی ملکی معیشت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے جو ریاستی جبر کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں۔

اس کی سب سے بڑی مثال تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود مختلف انتظامی رکاوٹیں اور قانون سازی کے ذریعے اس فیصلے پر عملدرآمد کو لٹکایا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال علیمہ خان کے ان دعووں کو تقویت دیتی ہے کہ حکومت عدالتی فیصلوں کو پسِ پشت ڈالنے کی دانستہ کوششیں کر رہی ہے۔

قارئین کے لیے اہم معلومات اور آئندہ کے اقدامات

اگر آپ پاکستان کے سیاسی اور قانونی منظرنامے پر نظر رکھتے ہیں، تو آنے والے دنوں میں آپ کو درج ذیل امور پر نظر رکھنی چاہیے:

  • عدالتی ڈائری: راولپنڈی اور اسلام آباد کی عدالتوں کی کاز لسٹ کا جائزہ لیتے رہیں کہ آیا