عمران خان کی صحت کے حوالے سے تازہ ترین خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے ان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی مکمل طور پر خیریت سے ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔ جمعرات کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے عوامی خدشات کو مسترد کیا اور بتایا کہ سابق وزیر اعظم جیل میں اپنا زیادہ تر وقت قرآن پاک کی تلاوت اور اس کا ترجمہ پڑھنے میں گزار رہے ہیں۔
عمران خان کی صحت اور روزمرہ کے معمولات
علیمہ خان نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے بارے میں پھیلائی جانے والی قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی طور پر بھی مضبوط ہیں۔ پارٹی کارکنوں اور حامیوں کے لیے یہ ایک اہم پیغام ہے، کیونکہ ان کی حراست کے دوران ان کی صحت کے بارے میں مختلف حلقوں میں تشویش پائی جاتی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ اور اسد علی طور کیس
عمران خان کے کیسز کے علاوہ، اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافی اسد علی طور کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔ یہ درخواست نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر کو طلب کر لیا ہے تاکہ نوٹس کے قانونی جواز پر وضاحت حاصل کی جا سکے۔ یہ معاملہ آزادی صحافت اور میڈیا کے خلاف حکومتی اقدامات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
آنے والے دن ملکی سیاست اور قانونی محاذ پر اہم ثابت ہوں گے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا اسد علی طور کیس میں فیصلہ میڈیا اور صحافیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہو سکتا ہے۔ عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق صرف پارٹی کے باضابطہ ذرائع یا خاندان کے بیانات پر ہی یقین کریں، کیونکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر تصدیق شدہ خبروں سے گریز کرنا چاہیے۔
عدالتی کارروائیوں کے بارے میں تازہ ترین معلومات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر کاز لسٹ کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہنا چاہیے۔ ملک میں سیاسی اور قانونی صورتحال جس تیزی سے بدل رہی ہے، اس کے پیش نظر ہر شہری کو مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
