علی ایlias نے ایس ایس جی سی کی طرف سے حصہ لے کر جمعرات کو پاکستان کی آزادی کے دن منائی جانے والی 160 کلومیٹر لمبی لاہور سے ساہیوال تک کی سائیکل ریس میں محض 4 گھنٹے میں کامیابی حاصل کر لی۔

یہ مقابلہ صبح 6:30 بجے لاہور قلعہ سے شروع ہوا اور ساہیوال اسپورٹس کمپلیکس میں ختم ہوا۔ ایlias نے 120 رجسٹرڈ مقابلہ کرنے والوں میں سب سے پہلے لائن عبور کی، جن میں پاکستان آرمی، ڈبلیو اے پی ڈی اور پنجاب پولیس کی ٹیمیں شامل تھیں۔

  • فاتح: علی ایlias (ایس ایس جی سی) – 4 گھنٹے
  • راستہ: لاہور قلعہ → رائےونڈ روڈ → ساہیوال اسپورٹس کمپلیکس
  • کل فاصلہ: 160 کلومیٹر
  • کل سائیکلسٹ: 120 (ٹیمیں: ایس ایس جی سی، آرمی، ڈبلیو اے پی ڈی، پنجاب پولیس)
  • شروع کا وقت: صبح 6:30 بجے
  • ختم کا وقت: صبح 10:30 بجے

مقابلے کا احوال

مقابلہ صاف آسمان اور 28 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں شروع ہوا جو سائیکلنگ کے لیے بہترین حالات تھے۔ 28 سالہ ایlias نے رائےونڈ روڈ کے کھلے حصوں پر 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار برقرار رکھی۔ ان کے قریب ترین حریف محمد آصف (آرمی) 12 منٹ بعد پہنچے جبکہ ڈبلیو اے پی ڈی کے شاہد علی تیسری پوزیشن پر رہے جو ایlias سے 15 منٹ پیچھے تھے۔

پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن (پی سی ایف) کے افسران نے فائنل لائن پر نتائج کا اعلان کیا اور کسی بھی طرح کی کوئی شکایت درج نہیں کی گئی۔ پی سی ایف کے سیکرٹری جنرل آصف علی نے کہا کہ یہ مقابلہ پنجاب میں سائیکلنگ کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کے لیے فیڈریشن کی کوششوں کا حصہ ہے۔

حریفوں کا کیا کہنا ہے

ایlias نے رپورٹروں کو بتایا کہ انھوں نے اس مقابلے کے لیے چھ ماہ سے تربیت حاصل کی تھی جس میں مری کی پہاڑی چڑھائیوں پر توجہ دی گئی۔ انھوں نے کہا، "آخری 30 کلومیٹر ساہیوال کے قریب تھوڑی سی چڑھائی والی تھیں لیکن میں نے پورا زور لگایا۔ یہ جیت میری ٹیم اور پاکستان کے ہر سائیکلسٹ کے لیے ہے جو بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔"

آرمی کے سائیکلسٹ آصف، جو ایبٹ آباد کے پاکستان آرمی اسپورٹس کمپلیکس میں تربیت حاصل کرتے ہیں، نے تسلیم کیا کہ ایlias کی حکمت عملی نے انھیں حیران کر دیا۔ آصف نے کہا، "وہ سیدھے راستوں پر بہت تیز تھے۔ اگلی بار ہم اپنی رفتار کو ایڈجسٹ کریں گے۔"

پاکستان کا سائیکلنگ منظر نامہ: موجودہ حالت

پاکستان میں سائیکلنگ کی بنیادی ڈھانچہ گزشتہ کئی سالوں سے کمزور چلا آ رہا ہے۔ کم سرکاری فنڈز اور مخصوص سائیکلنگ ٹریکس کی کمی نے اس کھیل کو متاثر کیا ہے۔ پی سی ایف نے پنجاب اسپورٹس بورڈ کے ساتھ مل کر لاہور میں 50 کلومیٹر طویل سائیکلنگ سرکٹ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے دسمبر 2025 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس سرکٹ میں ایک ویلیڈروم اور جونیئر سائیکلسٹوں کے لیے تربیت گاہ شامل ہوگی۔

بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستانی سائیکلسٹوں نے 1988 کے بعد سے اولمپکس کے لیے کوالیفائی نہیں کیا اور ملک میں اب تک کوئی یو سی آئی رینکڈ ٹیم موجود نہیں۔ پی سی ایف کے آصف علی نے بتایا کہ فیڈریشن 2026 کے ایشیائی کھیلوں میں وائلڈ کارڈ کے ذریعے شرکت کے لیے مہم چلا رہی ہے۔

پاکستان کے سائیکلسٹوں کے لیے اگلے اقدامات

  • نیشنل روڈ ریس چیمپئن شپ: لاہور، 15 اکتوبر 2025
  • پنجاب سائیکلنگ لیگ: ملتان، 20 نومبر 2025 (تمام صوبوں کی ٹیمیں حصہ لیں گی)
  • پی سی ایف کا بین الاقوامی کیمپ: ایبٹ آباد، جنوری 2026 (ایشیائی کھیلوں کے ٹرائلز کے لیے تیاری کرنے والے سائیکلسٹوں کے لیے)

پی سی ایف نے 2028 کے اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے والے کسی بھی پاکستانی سائیکلسٹ کو پانچ لاکھ روپے کا نقد انعام دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ فیڈریشن یورپ میں تربیت کے دوروں کے لیے اسپانسرز کی تلاش کر رہی ہے۔

آپ کیسے شامل ہو سکتے ہیں

چاہے آپ ایک نئے سائیکلسٹ ہوں یا تجربہ کار، پاکستان کی سائیکلنگ کمیونٹی میں آپ کا خیر مقدم ہے:

  • کلب میں شامل ہوں: پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن سے رابطہ کریں pcf.gov.pk یا لاہور کے فورٹریس اسٹیڈیم میں ان کے دفتر کا دورہ کریں۔
  • رضاکار بنیں: پی سی ایف کو آنے والے مقابلوں کے لیے مارشلز، معالجین اور منظم کرنے والوں کی ضرورت ہے۔
  • سائیکلسٹ کو سپانسر کریں: مقامی کاروباری حضرات پی سی ایف کے 'ایڈاپٹ اے سائیکلسٹ' پروگرام کے ذریعے سائیکلسٹوں کو سپانسر کر سکتے ہیں۔

لاہور سے ساہیوال تک کی یہ ریس اب پاکستان کے کھیلوں کے کیلنڈر کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔ بہتر سہولیات اور بڑھتی دلچسپی کے ساتھ پاکستان کے سائیکلسٹ اب بین الاقوامی سطح پر اپنی جگہ بنانے کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔

مقابلے کی تصاویر اور مکمل نتائج پاکستان سائیکلنگ فیڈریشن کی آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

اہم نکات

  • علی ایlias کی فتح نے پاکستان کے سڑک سائیکلنگ کے لیے ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔
  • پی سی ایف نوجوان ٹیلنٹ کو نکھارنے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
  • بین الاقوامی کوالیفائنگ پاکستان کے سائیکلسٹوں کے لیے اگلا بڑا چیلنج ہے۔

آپ پاکستان میں اپنی پسندیدہ سائیکلنگ روٹ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اپنے تجربات تبصرے میں شیئر کریں۔