علی بابا نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اگر آپ ان کے جدید آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ماڈلز، خاص طور پر Qwen3.8-Max کا استعمال کرتے ہوئے کوئی کاروبار شروع کرتے ہیں، تو کمپنی آپ کے ریونیو میں سے اپنا حصہ لے گی۔ یہ پالیسی چینی ٹیک کمپنیوں کی جانب سے اپنی اے آئی ٹیکنالوجی کو منافع بخش بنانے کی ایک نئی کوشش ہے۔
علی بابا اے آئی ریونیو شیئرنگ کا مطلب کیا ہے؟
پاکستان کے سٹارٹ اپس اور ڈویلپرز جو اپنے سافٹ ویئر میں اے آئی کو شامل کر رہے ہیں، ان کے لیے Alibaba AI revenue sharing کا یہ ماڈل مالیاتی منصوبہ بندی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ علی بابا 'مون شاٹ اے آئی' (Moonshot AI) کی پیروی کر رہا ہے، جس نے حال ہی میں 20 ملین ڈالر سے زیادہ سالانہ کمانے والی کمپنیوں سے 30 فیصد تک ریونیو کا مطالبہ کیا ہے۔ اگرچہ علی بابا نے ابھی تک ہر لیول کے لیے حتمی فیصد کا اعلان نہیں کیا، لیکن یہ واضح ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر بننے والی ایپس کی کامیابی میں براہِ راست حصہ دار بننا چاہتے ہیں۔
لوکل اے آئی ڈویلپمنٹ اور اخراجات
صرف ریونیو کا حصہ ہی نہیں، بلکہ اے آئی کو چلانے کے لیے درکار تکنیکی وسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ کروم جیسے براؤزرز کے ذریعے اے آئی ماڈلز چلانے کے لیے کافی زیادہ ڈسک اسپیس درکار ہوتی ہے۔ کراچی یا لاہور میں کام کرنے والے ڈویلپرز کو اب اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ انہیں ہارڈویئر کے اخراجات کے ساتھ ساتھ علی بابا کو دیے جانے والے ممکنہ منافع کے حصے کا بھی حساب رکھنا ہوگا۔
- ریونیو شیئرنگ: امکان ہے کہ یہ سالانہ آمدنی کی حد (تقریباً 20 ملین ڈالر) سے مشروط ہو۔
- ہارڈویئر: اے آئی ماڈلز کو لوکل چلانے کے لیے بڑی اسٹوریج کی ضرورت۔
- تعمیل: کمرشل استعمال کے لیے کمپنی کی جانب سے آڈٹ یا رپورٹنگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ ایک مقامی کاروباری شخصیت ہیں، تو ان شرائط کو نظر انداز نہ کریں۔ سب سے پہلے، علی بابا کلاؤڈ کے ساتھ اپنے موجودہ معاہدے کو چیک کریں کہ اس میں کمرشل استعمال کے حوالے سے کیا شرائط درج ہیں۔ دوسرا، اگر آپ کوئی بڑا پروڈکٹ بنا رہے ہیں تو اوپن سورس متبادل (جیسے Llama) کا موازنہ کریں، جو فی الحال آپ کے منافع میں سے کوئی حصہ نہیں مانگتے۔
مستقبل میں اے آئی کے ضوابط مزید سخت ہونے کا امکان ہے، لہذا علی بابا کلاؤڈ کے آفیشل پورٹل پر نظر رکھیں تاکہ آپ کو نئی اپ ڈیٹس بروقت مل سکیں۔
