تازہ ترین این ایچ ایل آف سیزن پاور رینکنگ میں اینہائیم ڈکس 31 ویں نمبر پر موجود ہیں کیونکہ لیگ کی ٹیمیں اپنے اسکواڈز کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔ جہاں زیادہ تر فرنچائزز نے اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے جارحانہ تبدیلیاں کیں، وہیں کیلیفورنیا کے اس کلب نے موسم گرما کے دوران انتہائی محتاط رویہ اختیار کیا۔ آئس ہاکی کے کھیل سے دلچسپی رکھنے والے شائقین یہ دیکھنے کے لیے بے چین ہیں کہ اس سست حکمت عملی کا ٹیم کی کارکردگی پر کیا اثر پڑے گا
اینہائیم ڈکس کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟
ٹیم کے موجودہ اسکواڈ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فرنچائز ابھی تک طویل المدتی تعمیر نو کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے۔ مینجمنٹ فری ایجنسی ونڈو کے دوران کوئی بڑا تجربہ کار کھلاڑی حاصل کرنے میں ناکام رہی، جس کی وجہ سے نوجوان کھلاڑیوں پر ایک بار پھر بھاری ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ لیگ کی دوسری ٹیموں نے اپنی فارورڈ لائنز کو نمایاں طور پر بہتر کیا ہے، جبکہ ڈکس کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری نہ کرنے پر شائقین سوالات اٹھا رہے ہیں
- موسم گرما میں کسی بڑے تجربہ کار کھلاڑی کے ساتھ معاہدہ نہیں کیا گیا
- ٹیم کی اہم پوزیشنز کے لیے اب بھی غیر تجربہ کار نوجوان کھلاڑیوں پر انحصار ہے
- دفاعی لائن مضبوط ٹیموں کے خلاف کمزور دکھائی دیتی ہے
دیگر ٹیموں کی کارکردگی کا موازنہ
لیگ کی آخری پوزیشن یعنی 32 ویں نمبر پر ڈیٹرائٹ ریڈ ونگز موجود ہے جن کا یہ آف سیزن انتظامی تبدیلیوں کی وجہ سے کافی خراب رہا۔ اس کے مقابلے میں ڈکس نے کم از کم مکمل تنظیمی بحران سے تو جان چھڑائی رکھی، لیکن مثبت تبدیلیوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ آخری پوزیشن سے صرف ایک درجہ اوپر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مقابلے کی اس فضا میں ایک ہی جگہ کھڑے رہنا دراصل پیچھے جانے کے مترادف ہے
پاکستانی شائقین کے لیے کرنے کا کام
اگرچہ پاکستان میں کرکٹ کی طرح آئس ہاکی کو وہ مقبولیت حاصل نہیں ہے، لیکن ڈیجیٹل اسٹریمنگ سورسز کی وجہ سے اب یہاں بھی ایک مخصوص مداحوں کا حلقہ بن چکا ہے۔ اگر آپ پاکستان سے این ایچ ایل کے میچز دیکھتے ہیں تو اکتوبر میں باقاعدہ سیزن شروع ہونے سے پہلے اپنی اسٹریمنگ ایپ کے سبسکرپشن پیکجز چیک کر لیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا انٹرنیٹ کنکشن ایچ ڈی لائیو اسٹریمنگ کے لیے موزوں ہو کیونکہ یہ میچز عام طور پر جنوبی ایشیا کے وقت کے مطابق رات گئے نشر ہوتے ہیں
آگے کیا دیکھنا چاہیے؟
اس ماہ کے آخر میں شروع ہونے والے ٹریننگ کیمپ اور پری سیزن میچز پر نظر رکھیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ کوئی نیا کھلاڑی کوچنگ اسٹاف کو متاثر کر پاتا ہے یا نہیں۔ اگر سیزن کے آغاز میں ٹیم کی کارکردگی بہتر نہ ہوئی تو سردیوں کی چھٹیوں سے پہلے ہی کھلاڑیوں کی تبدیلی کی افواہیں زور پکڑ سکتی ہیں
