پاکستان میں دستیاب زیادہ تر پورٹیبل پاور اسٹیشنز اتنی توانائی فراہم نہیں کر پاتے جتنا کہ ان کے اشتہارات میں دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اینکر سولکس (Anker SOLIX) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مارکیٹ میں موجود اکثر پاور اسٹیشنز اپنی ذخیرہ شدہ توانائی کا 30 فیصد تک ضائع کر دیتے ہیں۔

توانائی کا ضیاع کیوں ہوتا ہے؟

پاکستان میں جاری طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث لوگ وائی فائی راؤٹرز، پنکھوں اور لائٹس کو چلانے کے لیے پورٹیبل بیٹریوں پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم، یہ توانائی کا ضیاع بنیادی طور پر 'کنورژن لاسز' (Conversion Losses) کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب بیٹری اپنی ڈی سی (DC) پاور کو گھر کے آلات کے لیے درکار اے سی (AC) پاور میں تبدیل کرتی ہے، تو اس عمل میں کافی توانائی حرارت کی شکل میں ضائع ہو جاتی ہے۔

اگر آپ 1000 واٹ آور (Wh) کا یونٹ خریدتے ہیں، تو 30 فیصد ضیاع کا مطلب ہے کہ آپ کو صرف 700 واٹ آور ہی ملیں گے۔ یہ فرق آپ کے رات بھر کے بیک اپ پلان کو متاثر کر سکتا ہے۔

خریداری سے پہلے کن باتوں کا خیال رکھیں؟

صارفین کو چاہیے کہ کسی بھی ڈیوائس کو خریدتے وقت درج ذیل نکات پر غور کریں:

  • انورٹر کی کارکردگی: ایسی کمپنیوں کا انتخاب کریں جو اپنی ڈیوائسز کی 85 سے 90 فیصد کارکردگی کا واضح ذکر کرتی ہیں۔
  • حقیقی صلاحیت کا تخمینہ: اپنی ضرورت کا حساب لگاتے وقت ہمیشہ اشتہار کردہ صلاحیت سے 30 فیصد کم کو بنیاد بنائیں۔
  • شفافیت: ایسی برانڈز کو ترجیح دیں جو بیٹری کے ڈسچارج کا تفصیلی ڈیٹا فراہم کرتی ہوں۔

مستقبل کا لائحہ عمل

اینکر اب پوری انڈسٹری میں ڈیٹا کی شفافیت کے لیے زور دے رہی ہے تاکہ صارفین کو بہتر فیصلہ کرنے میں مدد ملے۔ پاکستان میں سولر کے ساتھ منسلک پاور اسٹیشنز کا رجحان بڑھ رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ آپ دکاندار سے ڈیوائس کی 'کنورژن ایفیشینسی' کے بارے میں ضرور پوچھیں۔ اگر کوئی کمپنی یہ ڈیٹا فراہم نہیں کرتی، تو سمجھیں کہ وہ ڈیوائس اشتہار کردہ صلاحیت سے کم کارکردگی دے گی۔ آئندہ چند ماہ میں مزید کمپنیاں اس معیار کی پیروی کر سکتی ہیں، اس لیے خریداری میں جلد بازی سے گریز کریں۔