پاکستان کسٹمز کی جانب سے فیس لیس اسیسمنٹ سسٹم کا نفاذ درآمدی سامان کی کلیئرنس کے طریقہ کار میں ایک بڑی تبدیلی ہے، جس نے تاجر برادری کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

15 دسمبر 2024 سے پاکستان کسٹمز نے ایک صدی پرانے مقامی اسیسمنٹ کے طریقہ کار کو ختم کر کے ایک مرکزی اور گمنام ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرایا ہے۔ کسٹمز جنرل آرڈر (CGO) نمبر 6 برائے 2024 کے تحت، اب ہر امپورٹ گڈز ڈیکلریشن (GD) ملک بھر میں کسی بھی مقام پر موجود افسر کے پاس خودکار طریقے سے جا سکتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد کسٹمز میں کرپشن کو روکنا اور کلیئرنگ ایجنٹس اور افسران کے درمیان بننے والے گٹھ جوڑ کو ختم کرنا ہے۔

فیس لیس اسیسمنٹ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟

اس نئے نظام کے تحت، آپ کی کھیپ (shipment) کی جانچ کرنے والا افسر کسی مخصوص دفتر یا پورٹ تک محدود نہیں ہے۔ جب GD فائل کی جاتی ہے، تو سسٹم اسے خودکار طریقے سے ملک کے کسی بھی کونے میں موجود افسر کو تفویض کر دیتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل گمنامی اس لیے رکھی گئی ہے تاکہ افسران اور درآمد کنندگان کے درمیان 'رشتہ داری' نہ بن سکے جو اکثر غلط ویلیو ایشن یا سامان کی جلد کلیئرنس کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

تاہم، اس نظام میں شفافیت کی کمی نے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ درآمد کنندگان، جو پہلے کسی بھی مسئلے پر افسر سے براہ راست بات کر سکتے تھے، اب ایک غیر شفاف ڈیجیٹل انٹرفیس کے رحم و کرم پر ہیں۔ اگر کسی اسیسمنٹ پر سوال اٹھایا جائے تو درآمد کنندہ کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ دستاویزات کون دیکھ رہا ہے، جس سے تکنیکی غلطیوں کو درست کروانا مشکل ہو گیا ہے۔

تاجروں کو کیا تحفظات ہیں؟

اگرچہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کا کہنا ہے کہ یہ جدیدیت کی طرف قدم ہے، لیکن تاجروں کو احتساب کے خاتمے کا ڈر ہے۔ جب افسر گمنام ہوتا ہے، تو غیر ضروری تاخیر یا غلط ویلیو ایشن پر اس کا احتساب کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

اہم مسائل جو درآمد کنندگان کو درپیش ہیں:
- جوابات میں تاخیر: مرکزی کیوز (queues) کی وجہ سے کام کا بوجھ بڑھ گیا ہے اور کلیئرنس میں وقت زیادہ لگ رہا ہے۔
- مقامی مہارت کی کمی: ہو سکتا ہے کہ کراچی کا کوئی افسر کسی ایسی صنعتی مشینری کو نہ سمجھ سکے جس کا ماہر لاہور میں موجود ہو۔
- شکایات کا ازالہ: کسی واضح رابطہ کار کے بغیر، درآمد کنندہ اپنی بات کس کے سامنے رکھے؟

آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ درآمد کنندہ یا کلیئرنگ ایجنٹ ہیں، تو اپنی دستاویزات کو مکمل اور درست رکھیں۔ چونکہ اب آپ ذاتی تعلقات کی بنیاد پر کام نہیں کروا سکتے، اس لیے خودکار سسٹم کے لیے مکمل تیاری ضروری ہے:
1. HS کوڈز کی جانچ: فائل کرنے سے پہلے اپنے کلاسیفیکیشن کوڈز کو دوبارہ چیک کریں۔
2. تفصیلی دستاویزات: Weboc پورٹل پر تمام تکنیکی لٹریچر اور کیٹلاگ اپ لوڈ کریں۔
3. ریکارڈ رکھیں: سسٹم کی جانب سے پوچھے گئے سوالات اور اپنے جوابات کا ڈیجیٹل ریکارڈ رکھیں۔

آگے کیا ہوگا؟

پاکستان کسٹمز کی ویب سائٹ customs.gov.pk پر نظر رکھیں، کیونکہ آنے والے مہینوں میں ایف بی آر اس سسٹم کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔ اگر GDs کا بیک لاگ بڑھتا رہا، تو امکان ہے کہ حکومت ایک ایسا 'ہائبرڈ' ماڈل لائے جس میں ڈیجیٹل نگرانی کے ساتھ ساتھ افسر کی جوابدہی بھی ممکن ہو سکے۔