شانگلہ میں دریائے سندھ کے طغیانی والے پانی میں ایک اور شخص کے ڈوب کر لاپتہ ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر تلاش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ منگل کے روز حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ دریائے سندھ کے اس خطرناک مقام پر تیز بہاؤ اور گہرےپانی کی وجہ سے ریسکیو اہلکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مقامی حکام کے مطابق دریائے سندھ میں اس طرح کے حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں جہاں پشاور اور گردونواح کے سیاح یا مقامی افراد احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں دریا کے کنارے سفر کرنا یا تصاویر بنانا اکثر خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ پانی کا بہاؤ اچانک تیز ہو جاتا ہے۔

پہاڑی علاقوں میں پانی کے حادثات کی ہولناکی

شانگلہ، کوہستان اور گردونواح کے مکینوں کے لیے یہ دریا روزمرہ کا خطرہ ہے۔ اس طرح کے مقامات پر ماہر غوطہ خوروں کی کمی اور پانی کا دباؤ امدادی کارروائیوں کو سست کر دیتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے اکثر وارننگ جاری کی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود حفاظتی انتظامات ناکافی نظر آتے ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کو دریائے سندھ یا کسی اور آبی ذخیرے کے قریب اس قسم کی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہو تو فوری طور پر درج ذیل اقدامات کریں:

  • خود دریا میں چھلانگ ہرگز نہ لگائیں کیونکہ تیز لہریں آپ کو بھی کھینچ سکتی ہیں۔
  • فوری طور پر ریسکیو 1122 یا مقامی پولیس کو واقعے کی درست جگہ کے ساتھ فون کریں۔
  • اگر ممکن ہو تو کنارے سے کوئی رسی، لکڑی یا تیرنے والی چیز ڈوبنے والے کی طرف پھینکیں۔
  • جائے وقوعہ پر ہجوم جمع نہ ہونے دیں تاکہ امدادی گاڑیوں کا راستہ نہ رکے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

انتظامیہ کی جانب سے رات گئے تک سرچ آپریشن کے نتائج کے حوالے سے مزید بیانات جاری کیے جانے کی توقع ہے۔ مقامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حادثات سے بچاؤ کے لیے دریائے سندھ کے خطرناک کناروں پر باڑ اور وارننگ بورڈز لگائے جائیں۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کی تازہ ترین معلومات کے لیے مقامی خبروں سے جڑے رہیں۔