ایپل کے افواہوں کی زد میں رہنے والے ایپل کی 20ویں سالگرہ کا آئی فون کے بارے میں اب تمام شکوک و شبہات دور ہو گئے ہیں، اور اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی خریداروں کو اب پریمیم اسمارٹ فونز کی قیمتوں اور ٹیکسز میں ایک بڑی تبدیلی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جہاں بین الاقوامی سطح پر یہ بحث چل رہی تھی کہ آیا ایپل نے شیشے سے بنے اس انوکھے آئی فون کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے، وہیں بلومبرگ کے مارک گرمن نے تصدیق کی ہے کہ یہ منصوبہ 2027 میں لانچ کے لیے اب بھی فعال ہے۔ پاکستانی صارفین کے لیے یہ صرف ایک تکنیکی بحث نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگلے تین سالوں میں آپ کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو کتنا لگژری ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

اس حوالے سے سامنے آنے والی متضاد رپورٹس کو سمجھنے کے لیے اہم حقائق درج ذیل ہیں:

  • لانچ کی تاریخ: یہ فون 2027 کے آخر میں متوقع ہے، جو کہ 9 جنوری 2007 کو اسٹیو جابز کی جانب سے پیش کیے گئے پہلے آئی فون کے 20 سال مکمل ہونے پر لانچ کیا جائے گا۔
  • ڈیزائن: یہ مکمل طور پر شیشے کا بنا ہوا ایک ایسا فون ہوگا جس میں کوئی بٹن یا چارجنگ پورٹ نظر نہیں آئے گا۔
  • موجودہ صورتحال: یہ منصوبہ منسوخ نہیں ہوا۔ پیداواری مسائل کی افواہوں کے باوجود ایپل اس پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔
  • پاکستان میں متوقع قیمت: موجودہ ایکسچینج ریٹ کے مطابق پی ٹی اے ٹیکس اور دکانداروں کے منافع کے ساتھ اس کی قیمت 5 لاکھ 50 ہزار سے 6 لاکھ 50 ہزار روپے تک جا سکتی ہے۔

منسوخی کی افواہوں کے پیچھے چھپا سچ

ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایپل نے شیشے کے نازک فریم اور مینوفیکچرنگ کے مسائل کی وجہ سے یہ منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔ پاکستان میں بھی مقامی ویب سائٹس نے اس منسوخی کی خبر کو تیزی سے پھیلایا جس سے آئی فون کے چاہنے والے مایوس ہو گئے۔ لیکن انڈسٹری کے معتبر ترین صحافی مارک گرمن کی نئی رپورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ ایپل نے اس پر کام بند نہیں کیا۔

ایپل اس فون کو اپنے اب تک کے سب سے بہترین فلیگ شپ ماڈل کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔ شیشے کے ایسے جسم کو مضبوط اور گرنے سے محفوظ بنانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے، لیکن ایپل 2027 کی ڈیڈ لائن سے پہلے اس کا حل تلاش کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اگر آپ انقلابی ڈیزائن کی امید میں اپنے آئی فون 13 یا 14 کو اپ گریڈ کرنے سے گریز کر رہے ہیں، تو اب آپ کا انتظار رنگ لا سکتا ہے۔

ایپل کی 20ویں سالگرہ کا آئی فون پاکستان میں اتنا مہنگا کیوں ہوگا؟

پاکستان میں آئی فون خریدنا پہلے ہی ایک بہت بڑا مالیاتی فیصلہ ہوتا ہے۔ جب ایپل کی 20ویں سالگرہ کا آئی فون لانچ ہوگا، تو یہ موجودہ "پرو میکس" سیریز سے بھی اوپر ایک انتہائی مہنگا اور محدود ایڈیشن فون ہوگا۔

اس وقت پاکستان میں آئی فون 15 پرو میکس کی قیمت 4 لاکھ سے 4 لاکھ 50 ہزار روپے کے درمیان ہے۔ بالکل نئے اور شیشے کے منفرد ڈیزائن والے اس فون کی امریکی قیمت ہی 1500 ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ جب آپ اس میں پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی قدر، امپورٹرز کا منافع اور شپنگ کے اخراجات شامل کریں گے تو ٹیکس کے بغیر ہی اس کی قیمت 4 لاکھ 20 ہزار روپے تک پہنچ جائے گی۔

پی ٹی اے ٹیکس اور سی بی یو امپورٹ کا مسئلہ

پاکستانی خریداروں کے لیے اصل دھچکا ایف بی آر کی طرف سے لگے گا۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے موجودہ ٹیکس ڈھانچے کے تحت، باہر سے درآمد کیے جانے والے فونز پر بھاری کسٹمز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس عائد ہوتا ہے۔

ایک 1500 ڈالر مالیت کے فون پر پی ٹی اے ٹیکس پاسپورٹ پر تقریباً 1 لاکھ 80 ہزار روپے اور شناختی کارڈ پر 2 لاکھ 10 ہزار روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کراچی، لاہور یا اسلام آباد میں اس فون کی کل قیمت آسانی سے 6 لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ جائے گی۔ اتنی رقم میں پاکستان میں ایک اچھی استعمال شدہ سوزوکی مہران گاڑی یا ایک شاندار 150cc موٹر سائیکل خریدی جا سکتی ہے۔

پاکستانی آئی فون صارفین کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ اس وقت کوئی پرانا فون استعمال کر رہے ہیں اور اس نئے شیشے والے آئی فون کے انتظار میں ہیں، تو آپ کے لیے ہماری یہ تجاویز ہیں:

پہلی بات یہ کہ 2027 کے انتظار میں آج اپنے ضروری فون اپ گریڈ کو مت روکیں۔ اس فون کی لانچ میں ابھی تین سال باقی ہیں۔ اگر آپ کے موجودہ فون کی بیٹری خراب ہو چکی ہے یا اسکرین ٹوٹی ہوئی ہے، تو آئی فون 15 یا آنے والے آئی فون 16 کو ترجیح دیں۔

دوسری بات، خریدنے کا طریقہ کار پہلے سے سوچ لیں۔ اگر آپ کا کوئی رشتہ دار دبئی یا امریکہ میں رہتا ہے، تو وہاں سے فون منگوا کر اپنے پاسپورٹ پر رجسٹر کروانا سب سے سستا طریقہ ہے، جس سے آپ مقامی دکانداروں کے بھاری منافع سے بچ سکتے ہیں۔

آخر میں، مقامی مینوفیکچرنگ پر نظر رکھیں۔ اگرچہ پاکستان میں ایئر لنک اور دیگر کمپنیاں اینڈرائیڈ فونز اسمبل کر رہی ہیں، لیکن آئی فون جیسے پریمیم فونز ہمیشہ تیار حالت میں ہی درآمد کیے جائیں گے، جس کی وجہ سے ان کی قیمتیں ہمیشہ ڈالر کی قیمت سے منسلک رہیں گی۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

ہمیں توقع ہے کہ 2026 کے آخر تک اس فون کے ابتدائی ڈیزائن اور سپلائی چین کی معلومات سامنے آنا شروع ہو جائیں گی۔ اس دوران وفاقی بجٹ میں ایف بی آر کے لگژری ٹیکس سلیبس پر نظر رکھیں۔ اگر حکومت لگژری الیکٹرانکس پر ٹیکس کم کرتی ہے تو قیمتوں میں کچھ کمی آ سکتی ہے، لیکن پاکستان کے موجودہ معاشی حالات اور زرمبادلہ کے ذخائر کو دیکھتے ہوئے اس کا امکان بہت کم ہے۔