ایپل نے باضابطہ طور پر اپنے مختلف ہارڈویئر بشمول آئی فونز، آئی پیڈز، میک اور ایپل واچز کے لیے apple trade in ویلیوز میں اضافہ کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ تبدیلیاں بنیادی طور پر امریکی مارکیٹ کے لیے ہیں، لیکن یہ عالمی سطح پر سیکنڈری مارکیٹ کی قیمتوں کا تعین کرتی ہیں، جس کا اثر پاکستان میں موجود ایپل صارفین پر بھی پڑتا ہے۔

ٹریڈ ان ویلیوز میں اضافے کی تفصیلات

نئی قیمتوں کی فہرست میں جدید ترین فلیگ شپ ماڈلز جیسے آئی فون 16 پرو میکس اور میک پرو شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ایپل نے سام سنگ، گوگل اور ون پلس کے مخصوص اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز کے لیے بھی ٹریڈ ان کریڈٹ میں اضافہ کیا ہے۔ ان قیمتوں میں اضافے کا مقصد صارفین کے لیے نئے ماڈلز میں اپ گریڈ کرنا آسان بنانا ہے۔

  • شامل ڈیوائسز: آئی فون، آئی پیڈ، میک، ایپل واچ اور مخصوص اینڈرائیڈ فونز۔
  • اہم ماڈلز: آئی فون 16 پرو میکس، ایپل واچ الٹرا 2 اور میک پرو۔
  • حکمت عملی: پرانے آلات کے بدلے زیادہ کریڈٹ دے کر نئے فونز کی خریداری کو فروغ دینا۔

پاکستانی صارفین کے لیے اس کے اثرات

پاکستان میں ایپل کا براہ راست ٹریڈ ان پروگرام موجود نہیں ہے، تاہم مقامی مارکیٹ میں ایپل ڈیوائسز کی قیمتیں عالمی رجحانات پر انحصار کرتی ہیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں استعمال شدہ آئی فونز کی فروخت عالمی قیمتوں سے متاثر ہوتی ہے۔ جب ایپل اپنی آفیشل ٹریڈ ان ویلیو بڑھاتا ہے، تو اس سے مقامی مارکیٹ میں بھی سیکنڈ ہینڈ ڈیوائسز کی قیمتیں مستحکم رہتی ہیں یا ان میں بہتری آتی ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کے پاس پرانا ایپل ڈیوائس ہے، تو مقامی ریٹیلرز سے اس کی موجودہ قیمت ضرور چیک کریں۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اضافے کے بعد، اپنے ڈیوائس کو پرانے نرخوں پر فروخت کرنے سے گریز کریں۔ ڈیوائس بیچنے سے پہلے اپنا ڈیٹا بیک اپ کریں، آئی کلاؤڈ سے سائن آؤٹ کریں اور فیکٹری ری سیٹ ضرور کریں۔

آگے کیا ہوگا؟

آنے والے ہفتوں میں مقامی مارکیٹ پر نظر رکھیں کہ ریٹیلرز اپنی بائے بیک قیمتوں میں کیا ردوبدل کرتے ہیں۔ اگرچہ امریکی ٹریڈ ان پروگرام کا اطلاق براہ راست پاکستان پر نہیں ہوتا، لیکن عالمی قیمتوں میں تبدیلی کا اثر چند ہفتوں میں مقامی مارکیٹ میں بھی نظر آنے لگتا ہے۔