ایپل کی جانب سے اپنے آئندہ آنے والے apple iphone 18 کے لیے کم قیمت ڈریم (DRAM) میموری چپس حاصل کرنے کی کوشش اس وقت ناکام ہوگئی جب چینی کمپنی CXMT نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ ستمبر 2026 میں متوقع آئی فون 18 کے لانچ سے چند ہفتے قبل، ایپل کو اپنی پیداواری ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار میموری کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
آئی فون 18 کے پرزہ جات کا بحران
سپلائی چین میں پیدا ہونے والی یہ رکاوٹ ایپل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ایپل کا ارادہ تھا کہ وہ CXMT سے سستے پرزے حاصل کر کے اپنے اخراجات کو کنٹرول میں رکھ سکے، لیکن اس انکار نے کمپنی کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ پاکستانی صارفین کے لیے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ نئی ڈیوائس کی عالمی دستیابی محدود رہ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔
سی ایکس ایم ٹی کا انکار کیوں؟
اگرچہ کمپنی نے وجوہات کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، لیکن تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عالمی سیاسی دباؤ اور سپلائی کے موجودہ توازن کو برقرار رکھنے کی خواہش اس فیصلے کے پیچھے ہو سکتی ہے۔ CXMT تیزی سے سیمی کنڈکٹر مارکیٹ میں اپنا مقام بنا رہی ہے اور ایپل جیسے بڑے اور زیرِ نظر کلائنٹ کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے کاروباری اور ریگولیٹری لحاظ سے زیادہ خطرات کا باعث بن سکتا تھا۔
عالمی مارکیٹ پر اثرات
یہ پیش رفت سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں جاری غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔ جب ایپل جیسی بڑی کمپنی کو پرزہ جات کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں، تو اس کا اثر پوری الیکٹرانکس انڈسٹری پر پڑتا ہے۔ پاکستان میں جہاں پہلے ہی ڈالر کی قدر اور ٹیکسوں کے باعث ٹیک مصنوعات مہنگی ہیں، وہاں عالمی سطح پر پرزہ جات کی کمی براہِ راست عام صارف کی جیب پر اثر انداز ہوتی ہے۔
مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟
- ستمبر 2026 میں ہونے والی ایپل کی تقریب پر نظر رکھیں، جہاں سپلائی کی کمی یا لانچ میں تاخیر کے بارے میں مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔
- مقامی مارکیٹ میں آئی فون 18 کی آمد کے وقت قیمتوں میں اضافے کے لیے تیار رہیں۔
- دیگر میموری سپلائرز کے ردعمل پر نظر رکھیں کیونکہ وہ اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
فی الحال ایپل پر دباؤ ہے کہ وہ اپنی پیداوار کو یقینی بنائے تاکہ آئی فون 18 کو مارکیٹ میں دستیابی کے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
