پاکستان میں روایتی معیارِ حسن تیزی سے بدل رہے ہیں اور نوجوان نسل کے نزدیک پرکشش ہونے کے معنی بھی اب مختلف ہوتے جا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں کراچی اور بیرون ملک ہونے والی نشستوں میں یہ بات سامنے آئی کہ اب لوگ پرانے اور فرسودہ جمالیاتی پیمانوں سے جان چھڑا رہے ہیں۔ دہائیوں تک ہمارے یہاں گوری رنگت، مخصوص جسامت اور بھاری بھرکم میک اپ کو خوبصورتی کا واحد معیار سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب کالج، یونیورسٹی اور پروفیشنل حلقوں کے نوجوان ان روایتی تصورات پر کھل کر سوال اٹھا رہے ہیں۔

گورے رنگ کی کریموں یا مہنگے سیلون سیشنز کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اب نوجوانوں کی توجہ فٹنس، ذاتی گرومنگ اور ذہنی سکون پر زیادہ ہے۔ اس تبدیلی کی بڑی وجہ عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی ہے جہاں ہر قسم کی ظاہری شکل و صورت کو سراہا جاتا ہے۔ البتہ پاکستانی نوجوانوں کو اب بھی خاندانی محفلوں اور رشتے داروں کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر نئی نسل اس طرح کی باتوں کو ہنسی میں اڑا دیتی ہے یا دوٹوک انداز میں جواب دیتی ہے۔

شہری حلقوں میں سوچ کی تبدیلی

آپ کراچی کے کلفٹن، لاہور کے گلبرگ یا اسلام آباد کے کیفے میں چلے جائیں، آپ کو دوتین دہائی قبل والا یکساں فیشن نظر نہیں آئے گا۔ اب ہر شخص کا اپنا ایک الگ انداز ہے، چاہے وہ سٹریٹ ویئر ہو یا دیسی لک۔ لوگ سکن وائٹننگ انجেকشنز کی بات کرنے کے بجائے جلد کی صحت، جم اور ذہنی توازن پر بات کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ہمارے ہاں خوبصورتی کے پیمانے ٹی وی ڈراموں یا مارننگ شو کے میزبان طے نہیں کر رہے بلکہ نوجوان خود اپنے معیار بنا رہے ہیں۔

مہنگائی اور گرومنگ کے بدلتے رجحانات

بجلی کے بلوں اور مہنگائی نے بھی لاشعوری طور پر طرزِ زندگی کی ترجیحات بدل دی ہیں۔ جب متوسط طبقے کے لیے مہینے کا راشن پورا کرنا مشکل ہو جائے، تو کاسمیٹکس یا مہنگے سیلون کی تروتازگی پر ہزاروں روپے خرچ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لاہور اور اسلام آباد کے نوجوان اب گھریلو یا مقامی آرگینک پروڈکٹس کو ترجیح دے رہے ہیں۔ معاشی مجبوریوں نے اس ثقافتی رجحان کو مزید تقویت دی ہے جہاں قدرتی اور سادہ لک کو زیادہ پسند کیا جا رہا ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ بھی سوشل میڈیا کی جعلی چکاچوند یا خاندان کے طعنوں سے پریشان رہتے ہیں، تو اپنے آپ سے موازنہ کرنا بند کر دیں۔ اپنی جسمانی صحت اور ذہنی سکون پر توجہ دیں، کسی کے بنائے ہوئے مصنوعی معیار پر نہیں۔ مقامی اور معیاری برانڈز کو سپورٹ کریں جو رنگ گورا کرنے کے بجائے جلد کو صحت مند رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

اس بات پر نظر رکھیں کہ ہمارے میڈیا اور فیشن برانڈز اس تبدیلی کو کتنی جلدی قبول کرتے ہیں۔ جیسے جیسے آزاد تخلیق کار روایتی دقیانوسی خیالات کو چیلنج کریں گے، مین اسٹریم میڈیا کو بھی نوجوان نسل کی ان نئی ترجیحات کے مطابق ڈھلنا پڑے گا۔