پاکستان میں فیچر فون کا رجحان ان صارفین میں خاموشی سے بڑھ رہا ہے جو جدید اسمارٹ فونز سے منسلک مسلسل رابطے اور نوٹیفکیشنز کی بہتات سے تنگ آ چکے ہیں۔ اگرچہ عالمی مارکیٹ اب بھی مہنگے اور جدید ڈیوائسز پر زور دے رہی ہے، لیکن مقامی صارفین کا ایک طبقہ دوبارہ بنیادی ہینڈ سیٹس کی طرف لوٹ رہا ہے جو کال کرنے، میسج بھیجنے اور طویل بیٹری لائف کے علاوہ کچھ نہیں دیتے۔
پاکستان میں فیچر فون کا انتخاب کیوں کیا جا رہا ہے؟
بہت سے لوگوں کے لیے یہ تبدیلی صرف پیسے بچانے کے بارے میں نہیں ہے، حالانکہ بنیادی ڈیوائسز کی قیمت، جو اکثر 3,000 سے 8,000 روپے کے درمیان ہوتی ہے، کسی بھی انٹری لیول اسمارٹ فون سے کافی کم ہے۔ اس رجحان کی بنیادی وجہ 'ڈیجیٹل ڈیٹوکس' کی خواہش ہے۔ ایسی دنیا میں جہاں سوشل میڈیا ایپس اور مسلسل ای میلز ہماری روزانہ کی پیداواری صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں، ایک ایسا ڈیوائس جس میں آپریٹنگ سسٹم نہ ہو، صارف اور انٹرنیٹ کے درمیان ایک مفید رکاوٹ فراہم کرتا ہے۔
مزید برآں، فیچر فونز کی بیٹری کی پائیداری بے مثال ہے۔ جہاں ایک فلیگ شپ اسمارٹ فون بھاری استعمال کے بعد ایک دن بھی بمشکل نکالتا ہے، وہاں ایک عام فیچر فون ایک بار چارج کرنے پر کئی دن تک چل سکتا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے شکار علاقوں میں یہ خصوصیت ایک ضرورت بن چکی ہے۔
کیا یہ کوئی عارضی فیشن ہے یا مستقل رجحان؟
ٹیک تجزیہ کار اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا یہ صارفین کے رویے میں حقیقی تبدیلی ہے یا صرف ایک عارضی رجحان۔ اگرچہ نوکیا (HMD Global) جیسے برانڈز اپنے کلاسک ماڈلز کو اپ ڈیٹ کر رہے ہیں، لیکن مارکیٹ پر اب بھی اینڈرائیڈ اور آئی او ایس کا غلبہ ہے۔ بینکنگ، رائیڈ ہیلنگ (جیسے کریم یا ان ڈرائیو) اور فوڈ ڈیلیوری ایپس کے لیے اسمارٹ فون اب بھی ایک بنیادی ضرورت ہیں۔
آپ کو آگے کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ ثانوی ڈیوائس کے طور پر فیچر فون لینے کا سوچ رہے ہیں، تو پہلے اپنی روزانہ کی ضروریات کا جائزہ لیں۔ اگر آپ کا کام واٹس ایپ جیسی ایپس پر منحصر ہے، تو ایسا ڈیوائس خریدیں جو KaiOS سپورٹ کرتا ہو۔ کوئی بھی ڈیوائس خریدنے سے پہلے اس کا پی ٹی اے (PTA) اسٹیٹس ضرور چیک کریں تاکہ کنیکٹیویٹی کے مسائل سے بچا جا سکے۔ آپ پی ٹی اے کی آفیشل ویب سائٹ https://dirbs.pta.gov.pk/ پر ڈیوائس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
