انسانی ذہانت کے معیار میں گراوٹ کا رجحان سامنے آ رہا ہے جس نے دہائیوں کے ان سائنسی اعداد و شمار کو الٹ دیا ہے جو مستقل ذہنی ترقی کی نشاندہی کرتے تھے۔ کئی نسلوں تک دنیا بھر میں معیاری انٹیلی جنس کوشینٹ یعنی آئی کیو ٹیسٹ کے نتائج میں مسلسل بہتری دیکھی گئی تھی، جسے سائنسی دنیا میں 'فلن ایفیکٹ' کہا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں کے دوران کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ترقی نہ صرف رک گئی ہے بلکہ اس میں الٹا زوال شروع ہو گیا ہے۔ محققین اب اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جدید نسلیں اپنے ماضی کے مقابلے میں تعلیمی اور ذہنی صلاحیتوں کے ٹیسٹ میں کم نمبر کیوں لے رہی ہیں۔
فلن ایفیکٹ اور اس کے برعکس نئی تبدیلی
بیسویں صدی کے بیشتر حصے میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں اوسط آئی کیو اسکورز میں ہر عشرے میں تقریباً تین پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا تھا۔ بہتر خوراک، اسکولوں تک آسان رسائی، صحت کی سہولیات میں بہتری اور تعلیمی پروگراموں نے اس تسلسل کو برقرار رکھا تھا۔ ماہرین کا خیال تھا کہ ٹیکنالوجی اور تعلیمی وسائل کی فراہمی کے ساتھ یہ فکری ارتقا جاری رہے گا لیکن حالیہ مطالعات نے ایک نمایاں کمی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس اچانک تبدیلی نے ماہرین نفسیات اور سائنس دانوں کو یہ مجبور کیا ہے کہ وہ اس عمل کے لیے 'ریورس فلن ایفیکٹ' کی اصطلاح استعمال کریں تاکہ ذہنی صلاحیتوں میں ہونے والی اس کمی کی وضاحت کی جا سکے۔
ذہانت میں کمی کی ممکنہ وجوہات
اس رجحان کا جائزہ لینے والے سائنس دان کئی اہم عوامل پر غور کر رہے ہیں جن میں بدلتا ہوا طرز زندگی اور ماحولیاتی اثرات شامل ہیں۔ پڑھانے کے طریقوں میں تبدیلی، بنیادی یادداشت کے کاموں کے لیے ڈیجیٹل آلات پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور میڈیا کے استعمال کے نئے انداز سخت جانچ کے دائرے میں ہیں۔ کچھ محققین کا کہنا ہے کہ مستقل ڈیجیٹل اسکرین کا استعمال اور توجہ مرکوز کرنے کا دورانیہ کم ہونا گہری تجزیاتی سوچ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی، خوراک کے غیر صحت مندانہ عادات اور نوجوانوں میں نیند کی کمی جیسے مسائل بھی دماغی صحت پر اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
مستقبل کے لیے اس کے کیا اثرات ہیں؟
اگرچہ معیاری ٹیسٹ اسکورز میں کمی کا یہ مطلب نہیں کہ انسان سوچنے کی صلاحیت مکمل طور پر کھو رہا ہے، لیکن یہ اس بات کی نشاندہی ضرور کرتا ہے کہ جدید ماحول ہمارے دماغی افعال کو کیسے متاثر کر رہا ہے۔ تعلیمی اداروں اور صحت عامہ کے حکام کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے کہ وہ اس ذہنی تنزلی کی اصل وجوہات کا پتہ لگائیں۔ عام شہریوں کے لیے یہ تحقیق اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اسکرین کا غیر ضروری استعمال کم کریں، مطالعے کی عادت کو اپنائیں اور ایسے ذہنی مشقوں کو ترجیح دیں جو گہرے فوکس کا تقاضا کرتی ہیں۔ جیسے جیسے ماہرین صحت اور تعلیم کے ڈیٹا کا مزید تجزیہ کریں گے، آنے والے وقت میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ ذہنی کمی عارضی ہے یا ڈیجیٹل دور کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔
