فیلڈ مارشل نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کا دورہ کیا ہے جہاں ملک بھر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دورے کے دوران مسلح افواج کی جانب سے ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے کاموں میں سول انتظامیہ کی مدد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
این ڈی ایم اے ایمرجنسی سینٹر کا دورہ اور بریفنگ
اس اعلیٰ سطح کے دورے کا بنیادی مقصد ہنگامی حالات میں سول اداروں اور فوجی دستوں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید بہتر بنانا تھا۔ حکام نے فیلڈ مارشل کو حالیہ مون سون اور متوقع موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں کیے گئے حفاظتی اقدامات سے آگاہ کیا۔ بریفنگ کے دوران ارلی وارننگ سسٹمز، متاثرہ علاقوں میں بروقت رسائی اور ہیوی مشینری کی نقل و حرکت کے پلان کا بھی جائزہ لیا گیا۔
قدرتی آفات کے دوران وفاقی اداروں، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم اے) اور مقامی انتظامیہ کے مابین بروقت رابطہ کاری انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ بریفنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہنگامی صورتحال میں تاخیر سے بچنے کیلیے تمام متعلقہ محکمے ہائی الرٹ رہیں گے۔
ریلیف اور ریسکیو کی تیاریاں
پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ مشکل وقت میں آگے بڑھ کر فرائض سرانجام دیے ہیں، چاہے وہ سیلاب ہو زلزلہ۔ اس وقت درج ذیل شعبوں میں فوج کے دستوں کو الرٹ رکھا گیا ہے:
- فضائی یونٹس جو پہاڑی علاقوں میں پھنسے افراد کو نکالنے اور راشن گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
- میڈیکل کور کی ٹیمیں جو فوری طور پر فیلڈ اسپتال قائم کرنے کیلیے تیار ہیں۔
- انجینئرنگ بٹالینز جو بند راستوں کو کھولنے اور پلوں کی مرمت کا کام کرتی ہیں۔
شہریوں کیلیے ہدایات
اگر آپ ایسے علاقے میں رہائش پذیر ہیں جو سیلاب یا لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کی زد میں ہے، تو موسمیاتی انتباہات پر گہری نظر رکھیں۔ اپنے پاس ہنگامی سامان، ضروری ادویات، خشک راشن اور اہم دستاویزات کا تھیلا تیار رکھیں۔
پانی کی سطح بڑھنے یا خطرے کی گھنٹی بجنے پر انتظامیہ کی ہدایات کا انتظار کیے بغیر محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور صرف این ڈی ایم اے یا ضلعی انتظامیہ کی مستند اطلاعات پر بھروسہ کریں۔
آگے کیا ہوگا؟
آنے والے دنوں میں موسمیاتی تبدیلیوں اور بارشوں کے نئے سلسلے کے حوالے سے مزید رپورٹس سامنے آئیں گی۔ ضلعی سطح پر فنڈز کے اجراء اور حفاظتی انتظامات کی کارکردگی کا بھی آنے والے ہفتوں میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
