ملٹری لیڈر شپ نے سول انتظامیہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے کیونکہ مسلح افواج نے ملک بھر میں آفات سے نمٹنے کے لیے این ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر ریلیف آپریشنز میں مدد کا اعلان کیا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، این آئی (ایم)، ایچ جے نے اسلام آباد میں نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں قائم نیشنل ایمرجینسیز آپریشن سینٹر (NEOC) کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اس دورے کے دوران عسکری اور سول حکام نے مون سون کی صورتحال، ارلی وارننگ سسٹمز اور لاجسٹک فریم ورک کا جائزہ لیا۔ ملک کے مختلف حصوں بالخصوص پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں غیر متوقع بارشوں اور سیلاب کے خطرات کے پیش نظر سول انتظامیہ فوجی انجینئرنگ اور ایوی ایشن اثاثوں پر انحصار کرتی ہے۔

سول ملٹری ڈیزاسٹر کوآرڈینیشن کو مزید مؤثر بنانا

این ڈی ایم اے ہیڈ کوارٹر میں بریفنگ کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سینٹر میں موجود ڈیجیٹل میپنگ، سیٹلائٹ ٹریکنگ اور ریئل ٹائم فورکاسٹنگ سسٹمز کا معائنہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلح افواج کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے بھاری مشینری، ریسکیو بوٹس، میڈیکل کیمپ اور امدادی سامان کی فراہمی کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔

  • لاجسٹک سپورٹ: پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے ٹرانسپورٹ طیاروں، ہیلی کاپٹرز اور بھاری ٹرکوں کی فوری فراہمی۔
  • میڈیکل کیمپ: ہنگامی ادویات اور طبی عملے سے لیس موبائل فیلڈ ہسپتالوں کا قیام۔
  • انجینئرنگ کے اثاثے: بند راستوں کی بحالی اور دریاؤں کے کناروں کو مضبوط بنانا۔

جب طوفانی بارشیں مواصلاتی نظام کو تباہ کر دیتی ہیں تو فوجی ہیڈ کوارٹر اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان یہ اشتراک انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ این ڈی ایم اے اس مشترکہ لائحہ عمل پر انحصار کرتا ہے تاکہ دور دراز علاقوں میں پھنسے خاندانوں تک بروقت راشن، پینے کا صاف پانی اور خیمے پہنچائے جا سکیں۔

ہنگامی صورتحال میں آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ سیلاب سے متاثرہ کسی شہری علاقے یا دریا کے کنارے بستی میں رہتے ہیں، تو آپ کو این ڈی ایم اے یا صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (PDMAs) کی جانب سے جاری کردہ وارننگز سے باخبر رہنا چاہیے۔ اپنے پاس ایک ایمرجنسی بیگ تیار رکھیں جس میں شناختی کارڈ، ضروری ادویات، خشک راشن اور پانی کی بوتلیں موجود ہوں۔

  • این ڈی ایم اے کی موبائل ایپ یا سرکاری سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔
  • بارشیں شروع ہونے سے پہلے اپنے علاقے میں محفوظ مقام اور راستوں کا تعین کر لیں۔
  • اپنے فون پر ایمرجنسی ہیلپ لائن نمبرز، بشمول این ڈی ایم اے اور مقامی ریسکیو کے نمبر محفوظ رکھیں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

محکمہ موسمیات کی جانب سے مون سون کی شدت اور شمالی وادیوں میں گلیشئرز کے پگھلنے سے بننے والی جھیلوں کے خطرات کے حوالے سے رپورٹس پر گہری نظر رکھیں۔ تربلا، منگلا اور گڈو جیسے بڑے بیراجوں پر پانی کے بہاؤ کے تناظر میں صوبائی انتظامیہ کے اقدامات کو دیکھیں۔ اس کے علاوہ آنے والے مالی سال میں سیلاب سے بچاؤ کے مستقل بنیادی ڈھانچے کے لیے وفاقی گرانٹس پر بھی توجہ دیں۔