کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں واقع ایدھی سینٹر میں پیش آنے والی ایک بڑی ڈکیتی کے دوران مسلح ملزمان 65 لاکھ روپے سے زائد کی نقدی لوٹ کر فرار ہو گئے۔ یہ رقم ایدھی سینٹر کے 200 سے زائد ملازمین کی تنخواہوں اور مرکز میں مقیم بے سہارا بچوں کے ماہانہ وظائف کے لیے مختص تھی۔

ایدھی سینٹر ڈکیتی کی تحقیقات

اس واردات کا مقدمہ ایدھی سینٹر کے ملازم مظہر عباس کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، 4 مسلح ڈاکوؤں نے اس وقت مرکز پر دھاوا بولا جب یہ رقم بینک سے نکال کر مرکز لائی گئی تھی۔ ڈاکوؤں نے انتہائی مہارت سے رقم حاصل کی اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

فلاحی کاموں پر اثرات

ایدھی فاؤنڈیشن ملک بھر میں غریبوں اور لاوارثوں کے لیے ایک بڑا سہارا ہے، اور اس طرح کی واردات براہ راست ان بچوں اور ملازمین کو متاثر کرتی ہے جن کا انحصار اس فنڈ پر تھا۔ 65 لاکھ روپے کی بڑی رقم کا ضیاع مرکز کے انتظامی امور کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ رقم بہت اہم تھی جس کی ادائیگی کے لیے انتظامات مکمل کیے جا چکے تھے، تاہم اب صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔

شہریوں کے لیے ہدایات

کراچی میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم کی لہر کے پیش نظر شہریوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کے پاس اس واردات کے حوالے سے کوئی بھی معلومات ہوں تو فوری طور پر قریبی تھانے یا مددگار 15 پر رابطہ کریں۔ ایدھی انتظامیہ نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے رقم کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔

آئندہ کے لائحہ عمل کے طور پر، فلاحی اداروں کو اپنی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسی وارداتوں کا تدارک کیا جا سکے۔ ہم اس کیس کی پیشرفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے ہی پولیس کی جانب سے کوئی نئی پیشرفت سامنے آئے گی، قارئین کو آگاہ کیا جائے گا۔