پیر، 26 اگست 2024 کو ہونے والا آرمی چیف کا دورہ ایران سرحدی سیکیورٹی کے اہم مسائل کو حل کرنے اور دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان دوطرفہ فوجی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) جنرل عاصم منیر ایرانی وزارت خارجہ کے سرکاری اعلان کے بعد تہران کے لیے ایک اعلیٰ سطحی فوجی وفد کی قیادت کریں گے۔ یہ سفارتی مشن ایک ایسے نازک وقت پر ہو رہا ہے جب علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، جس کے لیے اسلام آباد اور تہران کے درمیان قریبی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

سیکیورٹی مشن کی اہم تفصیلات

آپ کو باخبر رکھنے کے لیے اس اہم دورے کے بنیادی حقائق درج ذیل ہیں:
- تاریخ روانگی: پیر، 26 اگست 2024۔
- وفد کے سربراہ: چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) جنرل عاصم منیر۔
- بنیادی منزل: تہران، ایران۔
- اہم مذاکرات کار: اعلیٰ ایرانی فوجی کمانڈرز، دفاعی حکام اور سول قیادت۔
- اہم ایجنڈا: بارڈر مینجمنٹ، انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور علاقائی استحکام۔

پاکستان آرمی چیف کے دورہ ایران کا اہم ایجنڈا

اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے دوران جنرل عاصم منیر کی اپنے ایرانی ہم منصب، ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری اور دیگر اعلیٰ دفاعی و سیکیورٹی حکام سے ملاقات متوقع ہے۔ اس دورے کا بنیادی مرکز 900 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد کو محفوظ بنانا ہوگا۔ دونوں ممالک نے اس سے قبل اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروپوں کو سرحد پار حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

پاکستانی وفد انٹیلی جنس شیئرنگ کو بڑھانے اور سرحدی افواج کے درمیان ہاٹ لائن مواصلاتی چینلز کو مزید مضبوط بنانے کے طریقہ کار پر بھی بات چیت کرے گا۔ دفاعی تعاون، مشترکہ فوجی مشقیں اور تربیتی پروگرام بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گے کیونکہ دونوں ممالک باہمی اعتماد کو فروغ دینے اور آپریشنل غلط فہمیوں کو روکنے کے خواہاں ہیں۔

پاک ایران سیکیورٹی تعلقات کا پس منظر

دوطرفہ تعلقات کی حالیہ تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جنوری 2024 میں اس وقت عارضی کشیدگی پیدا ہوئی تھی جب دونوں ممالک نے بلوچستان اور سیستان و بلوچستان کے صوبوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے سرحد پار کارروائیاں کی تھیں۔ تاہم، اسلام آباد اور تہران دونوں نے فوری طور پر سفارتی پختگی کا مظاہرہ کیا، چند ہی دنوں میں مکمل سفارتی تعلقات بحال کیے اور سیکیورٹی پروٹوکول کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

یہ دورہ اپریل 2024 میں مرحوم ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے دورہ پاکستان کے دوران طے پانے والے معاملات کا تسلسل بھی ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے اگلے پانچ سالوں میں دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم ظاہر کیا تھا اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا تھا۔ جنرل عاصم منیر کا یہ دورہ ان اعلیٰ سطحی سیاسی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے اور سفارتی معاہدوں کو زمین پر ٹھوس سیکیورٹی اقدامات میں تبدیل کرنے کا ذریعہ بنے گا۔

مزید برآں، مشرق وسطیٰ کی وسیع تر جغرافیائی سیاسی صورتحال، خاص طور پر علاقائی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی، اس دورے کو مزید اہم بناتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ سفارتی حل اور علاقائی امن کی وکالت کی ہے۔ توقع ہے کہ بات چیت کے دوران طویل عرصے سے التوا کا شکار پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا، جسے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے لیکن یہ پاکستان کے صنعتی شعبے کے لیے توانائی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کسی بھی ایسے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک محفوظ اور پرامن سرحد کا ہونا بنیادی شرط ہے۔

یہ دورہ عام پاکستانیوں کے لیے کیوں اہم ہے؟

عام پاکستانیوں، بالخصوص بلوچستان اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے سیکیورٹی کی صورتحال براہ راست ان کی روزمرہ کی زندگی اور معاشی بقا پر اثر انداز ہوتی ہے۔ تفتان، گوادر اور پنجگور جیسے سرحدی شہروں میں ہزاروں خاندانوں کے لیے سرحدی تجارت معاشی لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔

مستحکم تعلقات اور محفوظ سرحدوں کا مطلب یہ ہے کہ قانونی بارڈر مارکیٹیں بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر سکیں گی۔ اس سے ان پاکستانی زائرین کی حفاظت بھی یقینی ہوگی جو سڑک کے راستے بلوچستان سے ایران میں مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ سرحد پر پرامن ماحول سیکیورٹی قافلوں، مقامی بازاروں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر حملوں کے خطرے کو کم کرتا ہے، جس سے مقامی آبادی کا تحفظ یقینی ہوتا ہے۔

مزید برآں، پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے علاقائی استحکام انتہائی ضروری ہے۔ مغربی سرحد پر کسی بھی قسم کی کشیدگی قومی وسائل کو دفاع کی طرف موڑ دیتی ہے جو بصورت دیگر عوامی ترقی اور بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیے جا سکتے ہیں۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟ اس پر نظر رکھیں

پیر کو وفد کی روانگی کے بعد چند اہم اشارے مذاکرات کی کامیابی کو ظاہر کریں گے:
- مشترکہ سیکیورٹی پروٹوکول: سرحد پر مشترکہ گشت کے نئے معاہدوں یا نئی بارڈر مارکیٹوں کے قیام کے حوالے سے اعلانات پر نظر رکھیں۔
- انٹیلی جنس شیئرنگ کے معاہدے: انٹیلی جنس شیئرنگ کے طریقہ کار کو باقاعدہ بنانا باہمی اعتماد میں اضافے کا ایک بڑا اشارہ ہوگا۔
- علاقائی موقف: مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور سی پیک (CPEC) روٹ کی سیکیورٹی کے حوالے سے مشترکہ بیانات پر توجہ دیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ سرحد پار تجارت، ٹرانسپورٹ یا سفر سے وابستہ ہیں، تو آپ کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
- سرحدی گزرگاہوں کی نگرانی کریں: تفتان اور رمدان بارڈر کراسنگ کے اوقات کار کے حوالے سے وزارت داخلہ اور بلوچستان کی مقامی انتظامیہ کے اعلانات پر نظر رکھیں۔
- زائرین کے لیے ٹریول ایڈوائزری چیک کریں: اگر آپ ایران کے سفر کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تو رجسٹرڈ ٹور آپریٹرز سے رابطہ کریں اور حکومت کی طرف سے جاری کردہ سیکیورٹی گائیڈ لائنز کی تصدیق کریں۔
- تجارتی قوانین سے باخبر رہیں: ایران کے ساتھ درآمد و برآمد سے وابستہ کاروباری اداروں کو ان نئے تجارتی معاہدوں یا کسٹم قوانین سے باخبر رہنا چاہیے جو ان دفاعی مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آ سکتے ہیں۔